جواب آں غزل

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
جواب آں غزل

مکرمی! آپ کے اخبار مورخہ 13 فروری کے اداریہ میں سینٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے عنوان سے میں لکھا گیا ہے کہ ساجد میر 21 ویں آئینی ترمیم کیخلاف مولانا فضل الرحمن کے شانہ بشانہ تھے ان کو ٹکٹ جاری کر نے پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ ہم کسی لیگی رہنماکی بات نہیں کرتے ہم بات کرتے ہیں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ اصول پسندی سیاسی و مذہبی رہنما پروفیسر ساجد میر کی موصوف 92 سے سنیٹر ہیں۔ ان کی جمعیت نے 97، 2002، 2008 اور 2013 کے قومی انتخابات میں مسلم لیگ ن کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔ بلکہ پرویز مشرف کے خلاف کسی لیگی کی نہیں بلکہ سنیٹر ساجد میر صاحب کی کلمہ حق کی پہلی آواز میاں نواز شریف کے حق میں بلند ہوئی تھی۔ سر تاج عزیز تو بیکن ہائوس کے وی سی بن گئے تھے۔ اب مولانا فضل الرحمن کے ساتھ دینے کی جوبات ہے۔ وہ بھی اصولی ہے۔ 21 ویں ترمیم میں دہشت گردی کے مرتکب مذہبی لوگوں کو سزا دینے کی بات ہے ہم لسانی علاقائی اور سیاسی دہشت گردوں کو بھی سزا دینے کے حق میں ہیں۔ ساجد میرے نے سینٹ کے ٹکٹ کیلئے درخواست تک نہ دی۔ یہ میاں نواز شریف کی مہربانی ہے کہ انہوں نے انہیں ٹکٹ جاری کردیا، ساجد میر ایک مضبوط بلکہ اہل حدیث ملک کی نمائندہ جمعیت کے سربراہ ہیں آزاد پالیسی کے مالک ہیں پوری قوم ان کی قدر دان ہے اور ہم نواز شریف کے ٹکٹ جاری کرنے پر مشکور ہیں لیکن اصولی موقف نہیں چھوڑ سکتے ۔ (صاحبزادہ حاجی محمد امجد اجمل مرکزی ترجمان، 06 راوی روڈ لاہور)