ایمبولینس کو راستہ دیا جائے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ایمبولینس کو راستہ دیا جائے

مکرمی! ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنتے ہی ترقی یافتہ ممالک میں فوری طور پر راستہ فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاںایمبولینس کے سائرن کی آواز سنتے ہی آگے نکلنے کی کوشش میں رفتار تیز کر دی جاتی ہے۔ دوسری جانب ایمبولینس کے ساتھ کھڑی گاڑیاں راستہ حاصل کرنے کی کوشش میں ایمبولینس کے پیچھے گاڑیاں لگانے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ ہماری جلدی پہنچنے کے چکر میں مریض زندگی سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ ٹریفک وارڈن کا ایمبولینس کیلئے راستہ صاف کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات ٹریفک وارڈن غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معمول کی ٹریفک گزرنے دیتے ہیں۔ بجائے اسکے کہ ایمبولینس سگنل کھولتے ہوئے راستہ بنایا جائے یہ رویہ سوسائٹی میں مجموعی طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میری ڈائیورز حضرات سے درخواست ہے کہ وہ انسانیت کی لاج رکھتے ہوئے ایمبولینس کو اس راستہ فراہم کریں۔ جونہی ایمبو لینس کے سائرن کی آواز سنائی دے، گاڑیاں سڑک کے کنارے کی جانب لگاتے ہوئے راستہ فراہم کریں۔ ٹریفک وارڈن کو بھی چاہئے کہ ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمبولینس کو جلد از جلد گزرنے کے مواقع فراہم کریں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری چھوٹی سے کاوش کسی کی زندگی بچاسکے۔(اقصیٰ عبدالغنی، پنجاب یونیورسٹی لاہور)