پھر سیاسی کارٹل، مافیا جیت گیا

مکرمی! ہماری خواہش پر عدالت عظمی کے حکم پر الیکشن کمشن نے بیلٹ پیپروں میں آخری خانہ خالی رکھنے کا اعلان کیا تھا تاکہ متعلقہ حلقہ میں کسی بھی امیدوار کے عوامی معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ووٹر اس خانہ میں مہر لگا کر ان سب امیدواروں سے ناپسندیدگی کا اظہار کر سکیں۔ 51 فیصد ووٹر کی ایسی رائے کی صورت میں اس حلقہ میں دوبارہ انتخاب عمل میں لایا جا سکے۔ اس خبر سے پورے ملک خصوصاً پڑھے لکھے طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر وائے حسرت کہ تمام شُد، یہ خوشی بھی پانی کا بُلبُلہ ثابت ہوئی۔ ووٹر نے بیلٹ پیپروں میں خانہ خالی ہی مانگا تھا، ان سے قرض یا خیرات تو نہیں مانگی تھی۔ لگتا ہے ان کو اپنی اوقات نظر آگئی کہ کیا ہونے جا رہا ہے اسلئے ان کی کارٹل اسکو رکوانے میں کامیاب ہو گئی۔(میاں محمد رمضان ٹاﺅن شپ لاہور)