ویسے آپ کا منشور کیا ہے؟

مکرمی!آپ کا منشور کیا ہے؟ آپ کا پروگرام کیا ہے؟ اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ یہ اور ان سے ملتے جلتے سوالات ہر سیاسی لیڈر کا تعاقب کررہے ہیں۔ سیاست کے ماہر کھلاڑی تو جل دے کر نکل جاتے ہیں لیکن نووارد بیچارے پوری طرح جھوٹ بولنا بھی نہیں جانتے اس لئے آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ ایک نووارد سیاستدان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کا منشور کیا ہے تو وہ یوں گویا ہوئے کہ سچی بات تو یہ ہے کہ میں ابھی اتنا زیادہ مشہور نہیں ہوں۔ صد سلام ایسی فہم و فراست پر کہ جن کے نزدیک منشور کا معنی و مفہوم شہرت کے سوا کچھ نہیں۔ گناہگار تو گناہگار ٹھہرے لیکن جن کو پارسائی کا دعویٰ ہے ان کا حال بھی سیف الدین مرحوم کے بقول کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے....
واعظ بھی اسی بت کو خدا مان رہا ہے
اس شہر میں اب کون مسلمان رہا ہے
(طارق غیور سندھو محلہ مغل پورہ۔ تحصیل و ضلع منڈی بہاﺅالدین)