غزل .... رضیہ کاظمی‘ نیوجرسی

خود ہے درکار جواپنی کوئی پہچان الگ
ڈھونڈ یئے اک روش عام سےامکان الگ
 ہیں یہ آشفتہ سری کے سروسامان الگ
 سل کے کرتے ہیں وہ کرتے سے گریبان الگ
جا ہو ایسی کہ گماں ہو کسی ویرانے کا
یہ وہ وحشی ہے جسے چاہئے زندان الگ
ہم نہ کہتے تھے کہ منزل کا نشاں دیتے جاو¿
ہم ہیں حیران یہاں تم بھی پریشان الگ
بات اڑجائےگی پر لے کے یہ سوچا بھی نہ تھا
وہ بھی شرمندہ ادھرہم ہیں پریشان الگ
ہم نشیں ترک تعلّق پہ مصر ہے اب جو
 ڈھونڈ لیں ہم بھی نہ کیوں زیست کے سامان الگ
نفس امّارہ نے اکسا یا سدا بہر گناہ
ورغلاتا ہے رضیہ ہمیں شیطان الگ