جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان؟

مکرمی!اگر کھیت کی مٹی زرخیز ہو، موسم شاندار اور وافر پانی بھی ہو تو سمجھ دار کسان فصل بوکر سویا نہیں کرتے وہ وقتاً فوقتاً کھیت کی گوڈی کرتے ہیں ،اس میں اُگی ہوئی جڑی بوٹیاں، خاردار جھاڑیاں خودرو بیلیں اکھاڑ کر ان کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ ان کا بیج اڑ کر دوبارہ کھیت میں جاکر اگ نہ جائے۔ ایسا کسان فائدے میں رہتا ہے اس کی محنت کا پھل اسے مل جاتا ہے۔ اگر ایسے ہی کھیت پر کسی نااہل کا قبضہ ہوجائے تو پھر وہ کھیت برباد ہو جاتا ہے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد یہی حال سرزمین پاکستان کے ساتھ ہوا ہے۔قدرت نے الیکشن 2013ءکی شکل میں پاکستانی قوم کی بہترین موقع عطا کیا ہے۔ لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پرانے چھتر تھوہر آک کے پودوں، خاردار جھاڑیوں، نقصان دہ جڑی بوٹیوں اور آکاس بیلوں کو اکھاڑ کر پھینک دیں۔(مرزا عبدالمجید ہمایوں ناز سینما ٹوبہ ٹیک سنگھ)