یاد ِ رفتگان .......شیخ نعمت اللہ شہباز

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

شیخ نعمت اللہ شہباز تحریک پاکستان کے ایک جری کا رکن تھے، ان کی پیدائش 1930ءکو میترانوالی ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔ اگرچہ دادا جان شیخ گلاب دین اور والد شیخ عبدالمجید کا کاروباری سلسلہ سانگلہ ہل حال ضلع ننکانہ صاحب میں تھا۔
مڈل پاس کرنے کے بعد وہ سانگلہ ہل آ گئے۔ جہاں وہ گورنمنٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں داخل ہو گئے۔ یہ اغلباً 1946ءکی بات ہے۔ اسی زمانے میں تحریک پاکستان زوروں پر تھی سانگلہ ہل میں اکثریت ہندوﺅں اور سکھوں کی تھی جبکہ بھلیر اور دیگر نواحی چکوک میں متمول زمیندار سکھ تھے۔ ہندو کا روبار پر چھائے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی دو چار دکانیں تھیں غلہ منڈی اس وقت لائل پور (فیصل آباد) کے ہم پلہ تھی لیکن شیخ عبداللہ مرحوم جو نوعمری میں مسلمان ہوئے اور علی پور سیداں ضلع نارووال سے سانگلہ میں مقیم ہوئے اور اپنی ذہانت، ریاضت اور محنت سے غلہ منڈی کے واحد مسلمان آڑھتی بن گئے اور کمال یہ کہ باوجود مذہب تبدیل کرنے کے غلہ منڈی کے آڑھتیوں کی تنظیم کے صدر بنے اور مسلمانوں اور ہندوﺅں میں یکساں مقبولیت حاصل کی خیر یہ توجملہ معترضہ کے طور پر مسلمانوں کی پوزیشن بتلانا مقصود تھا۔ ہندو سکھ اور ملحقہ چکوک کے سکھ زمیندار کافی مسلح تھے لیکن مسلمانوں میں بھی تحریک حصول پاکستان کا جذبہ اور ولولہ دیدنی تھا خاص کر نوجوانوں میں ہمارا گھرانہ اور اکثر مسلمان پکے مسلم لیگی تھے۔ ہمارے والدین کا اور حمید نظامی مرحوم و مغفور کے والدین کا بڑا قریبی تعلق تھا، ہم پڑوسی بھی رہے۔ حمید نظامی مرحوم نے 1944ءمیں روزنامہ نوائے وقت کا اجرا قائداعظم کے حکم سے شیخ حامد محمود کی شراکت سے کر دیا تھا۔ موجودہ مدیر اعلیٰ نوائے وقت جناب مجید نظامی میٹرک کے بعد لاہور چلے گئے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اخبار میں انتظامی اور قلمی معاونت کرتے۔ حمید نظامی صاحب کے منجھلے بھائی بشیر نظامی صاحب سانگلہ ہل میں مسلم لیگ کے روح رواں تھے۔ وہ بلا کے مقرر اور نوائے وقت سمیت دیگر مسلم اخبارات کے نیو ایجنٹ تھے۔ نظامی برادران میں سب سے چھوٹے بھائی خلیل نظامی مرحوم تھے جو نعمت اللہ کے ہم عمر اور گہرے دوست تھے۔ سانگلہ ہل میں نعمت اللہ، خلیل نظامی سید مظہر گیلانی، میاں نذیر بیگ، شیخ محمد طفیل، میاں نظام الدین (مانچسٹر) کے چھوٹے بیٹے نعیم وغیرہ کا گروپ تھا جو تحریک پاکستان کےلئے دن رات کام کرتے تھے۔ شیخ نعمت اللہ کو اپنی محنت، خدمت اور تحریک پاکستان سے پرجوش لگن کی وجہ سے رضاکاروں کا سالار بنا دیا گیا۔اس وقت پنجاب میں یونینسٹوں کی حکومت تھی، پھر اللہ کے فضل سے پاکستان 14 اگست1947 ءکو معرض وجود میں آ گیا۔ (پروفیسر عارف رضا)