سندھ کی تقسیم ایک گھمبیر مسئلہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

 مکرمی!مسلمانانِ برِ صغیر نے 1857ءکی جنگِ آزادی کے بعد اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کی جدو جہد کا آغاز کیا لیکن وہ جدو جہد صوبائیت یا لسانیت کبلئے نہیں تھی بلکہ وہ لازوال قربانیاں نظریے، سوچ، اقدار اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ سر زمین کے حصول کیلئے تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد بہت بڑی تعداد میں غیر سندھیوں کی سندھ میں نقل مکانی اور آبادکاری کیلئے نئے آنیوالے ایک گروہ کے کچھ افراد نے خود کو مقامی تہذیب سے الگ رکھا بلکہ اپنی زبان ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جو سندھ میں آکر نا صرف معاشی طور پر خوشحال ہو گئے بلکہ اب اسکی لسانی بنیادوں پر تقسیم بھی چاہتے ہیں۔سندھ کی تقسیم کی بات کرنیوالے لوگ کراچی میں صوبائیت ، عصبیت اور لسانیت کو فروغ دیکر ملک دشمن طاقتوں کے مذموم مقاصد کو تقویت پہنچانا چاہتے ہیں۔ سندھ کی تہذیب و ثقافت صدیوں پر محیط ہے جس میں کراچی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ یہاں آکر بسنے والے لوگ علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیں۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے یہاں آکر آباد ہونے والوں کو اس کی سنگینی کا اندازہ کرنا چاہئے لیکن المیہ یہ ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت ان سنگین مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی بجائے عوام کو نسلی لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی راہ پر چل نکلی ہے۔ شائد سیاستدانوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اپنی سیاسی بقا کیلئے جو نعرے بلند کر رہے ہیں وہ پورے نہ کر سکے تو یہی نعرے نفرتوں میں ڈھل جائینگے۔(رانا زاہداقبال فیصل آباد )