غزل (ڈاکٹرندیم اختر ندیم)

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
غزل (ڈاکٹرندیم اختر ندیم)

یہ دل تو ابھی تک ہے تمہارا اسے کہنا
میں ہار گیا پیار نہ ہارا اسے کہنا
صدیوں کی مسافت سے زبوں حالی مسافر
بیٹھا ہے تیری چاہ کا مارا اسے کہنا
وہ جس کے لئے جان ہتھیلی پہ دھری ہے
لگتا ہے وہی جان سے پیارا اسے کہنا
ازبر ہیں شب وصل کی جزیات بھی مجھ کو
دے دو ناں وہی زلف سہارا اسے کہنا
کھلتے ہی نہیں آس کے پودوں پہ شگوفے
ملتا ہی نہیں کوئی اشارہ اسے کہنا
ملتا ہی نہیں کوئی سرشام تمنا
ڈھلتا ہی نہیں رات کا دھارا اسے کہنا
آشفتہ ندیم آج بھی ہر چند بہت ہے
ہوتا ہے مگر پھر بھی گزارا اسے کہنا