او لیول اردو کا نصاب بہتر بنایا جائے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
او لیول اردو کا نصاب بہتر بنایا جائے

مکرمی! پاکستان میں کیمرج یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’ او‘‘ لیول کا امتحان پاس کرنیوالے طلباء و طالبات کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور اس تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان میں او لیول میں اردو ایک لازمی مضمون تصور کیا جاتا ہے اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ کمیرج یونیورسٹی ایک خاص مدت کے بعد اردو کے نصاب میں تبدیلی کرتے ہے۔ ہر چندکہ اس تبدیلی پر اساتذہ اور والدین کی طرف سے تسلسل کے ساتھ تنقید کی جاتی ہے جس پر کیمرج یونیورسٹی کی سرد مہری کیمرج بورڈ کی روایت رہی ہے لیکن اب معاملہ حد سے گزر چکا ہے اس مرتبہ برائے سال 2015ء ومابعد اردو کا نصاب آٹھ افسانوں اور مضامین، تین نظموں اور آٹھ غزلیات پر مشتمل ہے او لیول کا دورانیہ تین سال ہے اس طویل دورانیے کے لئے یہ مختصر ترین نصاب اپنے اختصار کے سبب ایک مذاق معلوم ہوتا ہے اور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کیمرج کے ارباب اختیار کو پاکستان میں قومی زبان اردو کی اہمیت کا یکسر اوراک نہیں بلکہ صرف اور صرف بھاری فیسوں کی وصولیابی یعنی اپنی مالی منفعت کا خیال ہے۔درایں حالات ہم کیمرج بورڈ کے ارباب بست و کشاد سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ مجوزہ موجودہ نصاب میں قومی وقار اور قومی زبان کے شایان شان وسعت پیدا کی جائے۔(خالد محمود عطا، صدر شعبہ اردو، ایچی سن کالج لاہور، 0300-8146212)