پردہ نشین

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی ! مانا کہ جمہوریت پر شب خون مارنے اور دو مرتبہ آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر کو کڑی سزا ملنی چاہئے بجا کہ شیر کی کھال میں چھپے گیدڑ نے ایک فون کال پر ڈھیر ہوتے ہوئے پاکستان کو تو انتہا پسندی کی آگ میں جھونک دیا لیکن دوسری جانب اس نے طاقت کے زعم میں لال مسجد اور جامع مسجد اور جامع حفصہ میں معصوم بچوں اور بچیوں کو خون میں نہلا کر نہ صرف ہمارے دلوں میں اپنے لئے نفرتوں کی تخم ریزی کی بلکہ عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر کے پاکستان کے چہرے پر کالک بھی مل دی۔ تسلیم کہ ڈوگر کورٹ کے تخلیق کار اور 12 مئی کے سانحہ کے سیاہ کار کو قانون کی گرفت میں ضرور آنا چاہئے۔ یہ بھی درست کہ اکبر بگٹی کے قتل سے اپنے ہاتھ رنگنے اور بلوچ بھائیوں میں ہر آن پھوٹ ڈالنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا مشرف اکیلا ہی ان تمام گناہوں اور سیاہ کاریوں کا ذمہ دار ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ آمریت کی حویلی میں جھوٹے برتن مانجنے اور پوچا لگانے والے پردہ نشین بھی ان بدبختیوں او رگناہوں میں برابر کے شریک ہیں۔ ظالم کا ساتھ دینے والا اس سے بھی بڑا ظالم ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں الٹ رواج ہے ظالم ایک جگہ ظالم ہے تو کہیں مظلوم بنا بیٹھا ہے اب وہ وقت آ گیا ہے احتساب فقط مشرف کا ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہَواﺅں کے کو دیکھ کر اونچی اڑانیں بھرنے والے ان پردہ نشینوں کا بھی ہونا چاہئے جو مشرف کو سو مرتبہ وردی میں صدر تسلیم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے۔ (کامران نعیم صدیقی ۔ لاہور، 0321-4583855)