شوکت خانم نے ایک اوربچی کو زندگی لوٹا دی

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! میں آج بھی وہ دن یاد کرتی ہوںجب مےں بےماری مےں مبتلا ہوئی تھی ۔ ابتداءمےں مجھے گردن مےں درد اور بخا ررہتا تھا جب ےہ درد معمول بن گےااور مےری بےنائی اور ٹانگوں پر اسکا اثرپڑنے لگا تو مےرے والد نے مجھے جام پور (ملتان) کے اےک ہسپتال مےں چےک اپ کرواےاان کے علاج سے مجھے کوئی افاقہ نہ ہوااورمےں چلنے پھرنے کیلئے سہارے کی محتاج ہو گئی۔اس ہسپتال مےں مےرے کچھ ٹےسٹ ہوئے جس سے پتہ چلا کہ مےری گردن مےں گلٹےاں ہےں اورڈاکڑزنے مجھے شوکت خانم کےنسر ہسپتال لاہور جانے کو کہا ۔مےرے بھائی نے انڑنےٹ کے ذرےعے اس ہسپتال کے بارے مےں معلومات حاصل کےں اور اسطرح ہم شوکت خانم ہسپتال آ گئے۔ ڈاکٹرز نے مےرے حرام مغزسے کچھ مواد نکال کر اسکا ٹےسٹ کےا اور مےری گردن مےں گلٹےوں کے کےنسر کی تصدےق کرتے ہوئے مےرا علاج شروع کےا اور مجھے کےمو کورسزلگائے گئے ۔جس سے مےں آہستہ آہستہ صحت ےاب ہوتی گئی۔ لوگوں کی باتےں سن کر میرا دل یہ بات ماننے سے انکار کر رہا تھا کہ مےرے مرض کا علاج بھی ممکن ہے لےکن انسان کی فطرت میں قدرت نے امید اور آس کی ڈور سے ہمیشہ بندھے رہنے کا ایک عجیب سا انتظام کر رکھا ہے جسکی وجہ سے مےں آج زندہ ہوں۔اوراپنی تعلےم بھی پورا کر رہی ہوں دوسرا شوکت خانم ہسپتال نے میری اس بیماری میں میرا پورا ساتھ دیا ہے۔ میں ہمیشہ اس کی انتظامےہ کی شکرگزار رہوں گی¿ کےونکہ مےری بےماری کا علاج کرنے مےں اس نے مےرے ساتھ بھرپور تعاون کےا ۔شوکت خانم جےسے ادارے اللہ تعالٰی کی نعمت ہےںاےسے اداروں کو ہمےشہ قائم رہنا چاہےے (۔عفےفہ جبےن ۔جام پور،ملتان)