کمیونزم کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کے خلاف شیطانی اتحاد

مکرمی! جنگ عظیم دوئم 1939-45ءکے بعد دنیا سوویت یونین کی اشتراکیت اور امریکی سرمایہ دارانہ دو نظریاتی بلاکوں میں تقسیم ہو گئی۔ 15جون1947ءمیں امریکی وزیر خارجہ جارج مارشل نے (Policy of Containment) ”گھیراﺅ کی پالیسی“ کے تحت مارشل پلان اور جواباً سوویت یونین نے مولوٹو پلان متعارف کروایا جس کا بظاہر مقصد پسماندہ خصوصاً اسلامی ملکوں کی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد ان کی معاشی مدد کرنا تھا لیکن حقیقت میں ان کو امداد کے نام پر اپنا غلام بنانا تھا۔ اسلامی دنیا اپنی بقاءکیلئے سپر پاورز یعنی سوویت یونین اور امریکہ کی مرہون منت تھی، امریکہ نے اشتراکیت کے پھیلاﺅ کو روکنے اور بلوچستان پر سوویت یونین کو قبضہ کرکے امریکہ اور یورپ کی تیل کی سپلائی کو متاثر کرنے سے روکنے کیلئے مختلف ملکوں کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی اس کی جغرافیائی اہمیت کی بناءپرسیٹو، سینٹو جیسے دفاعی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کئے۔ ان معاہدوں سے امریکی عوام کو روزگار ملا اور پاکستان کی خارجہ، داخلہ اور دفاعی پالیسی امریکی منشاءاور مرضی کے مطابق تشکیل پانے لگی جبکہ پاکستان اپنی خود مختاری کھو بیٹھا۔ 15فروری 1989ءکو سوویت 40ویں آرمی کے سابق کمانڈر بورس گروموف نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ آخری روسی فوجی بھی افغانستان سے نکل چکا ہے۔ افغانستان میں اسلامی جہاد جس میں افغانوں کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک سے آئے ہوئے مجاہدین نے بھرپور حصہ لیا اور اس جہاد کو بطور صلیبی جنگ مغربی ملکوں کی بھرپور مدد حاصل تھی۔ 21دسمبر1991ءمیں روسی کامریڈ گورپاچوف نے اصلاحاتی پروگرام کے تحت 74 سال پرانے اشتراکی نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ افغان جہاد کی بدولت سرمایہ دارانہ نظام محفوظ ہونے کے بعد غیر اہم، سوویت جنگ کے دوران تباہ حال افغانستان کے ساتھ تعاون ختم کرکے اسے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ افغان جہاد کے بعد اسلامی مجاہدین نے فلسطین اور کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد شروع کر دی۔ مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی اور کشمیر پر بھارتی قبضہ عالم اسلام کیلئے تکلیف کا سبب تھا، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینی اور کشمیری تحریک آزادی میں شدت آ چکی تھی۔ دوسری طرف بھارت اسرائیل کے ساتھ دوستانہ سفارتی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات استوار کرکے شیطانی اتحاد قائم کر چکا تھا جسے یہ صورت حال قابل قبول نہ تھی، لہٰذا امریکی سی۔آئی۔اے، اسرائیلی موساد، اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے یورپی حمایت کے بعد امریکی، اسرائیلی اور بھارت کی توسیع پسندانہ اور ظالمانہ اقدامات کی مخالف کرنے والے ملکوں لبنان، عراق، شام، ایران، لیبیا، پاکستان اور افغانستان اور آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والی جہادی تنظیموں جن میں القائدہ، حزب اللہ، فلسطینی تنظیم حماس، فتح، لشکر طیبہ، جماعت الدعوة، اور طالبان وغیرہ کے خلاف دہشت گرد ہونے کا الزام لگا کر پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ ان ملکوں یا تنظیموں سے دنیا کو تو نہیں بلکہ شیطانی اتحاد کو خطرات لاحق تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر وجود میں آنے والے اسرائیل نے مغرب اور امریکہ سے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی کچھ عہد کروا رکھے تھے جن میں یہودی ریاست کو لاحق اسلامی خطرات کا تدارک شامل تھا۔ اسرائیل کیلئے خطرہ بننے والے ملک عراق کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا۔ افغانستان کے خلاف شیطانی اتحاد کی سازش کی ابتداء21اگست1998ءکو ہوئی جب امریکہ نے کروز میزائلوں سے افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ مسلم امہ کی موجودہ صورتحال سے یہ واضح ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا شیطانی اتحاد اپنے بھر پور وسائل کے ساتھ اپنے شیطانی عزائم کے لیے متحد ہو چکا ہے۔ یہ شیطانی اتحاد مسلم اُمہ کا کھلا دشمن اور اسلامی دنیا میں عدو استحکام پیدا کرنے کیلئے ہر سازش کے لئے تیار ہیں۔ وہ اسلامی دنیا کو ترقی کرتے بھی نہیں دیکھ سکتے لہٰذا اپنے غاصبانہ قبضہ کو قائم رکھنے کیلئے ان اسلامی ملکوں کو انتشار میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ بطور سرغنہ بڑھ چڑھ کر عالم اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ سوڈان اور انڈونیشیا کی پُر امن تقسیم پر خوشیاں منانے والا شیطانی اتحاد فلسطین اور کشمیر کو آزاد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی ممالک عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون مضبوط کریں اور اپنے باہمی اختلافات کو ختم کرکے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں رقوم رکھنے کی بجائے اپنے ہی ملکوں میں سرمایہ کاری کریں۔ ہر مسئلہ کے حل کیلئے مغرب یا امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے مشترکہ دفاعی اور اقتصادی نظام قائم کرکے ان اسلام دشمن طاقتوں کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔(شیخ سجاد حسین، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)