خزانہ اور ملک لپیٹ سنڈیوں کا خاتمہ

مکرمی! نقصان پہنچانے والے کیڑوں اور فصلوں کو چاٹ کھانے والی پتہ لپیٹ سنڈیوں کی طرح اپنے ہاں خزانہ چاٹ اور ملک لپیٹ سنڈیوں کی کمی بھی نہ ہے۔ ان میں کچھ امریکی، کچھ روسی، اور ’را‘ کی سنڈیاں کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کا واحد مقصد ’‘’کھاﺅ، کھاﺅ، اور کھاﺅ“ ہے۔ خزانہ خالی کرکے جاﺅ اور ملک و ملت کو جتنا نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچاﺅ۔ خزانہ چاٹ راشی سنڈیوں کو تلف کرنے کا ایک موثر علاج چین نے کیا تھا۔ یعنی گولی، گولی، اور گولی“ ۔ گولی اندر راشی والی سردرد ختم۔ (محسن امین تارڑ، ایڈووکیٹ۔فون:0331-6442093)
اندھیر نگری
مکرمی! گورنمنٹ بچت کا سوچ رہی ہے اور چیف سیکرٹری پنجاب بیورو کریٹ کے ساتھ مل کر جی۔ او۔ آر۔ ون کیلئے نئے فرنیچر، کراکری، اور دوسرے زیبائش کے سامان کیلئے لاکھوں کی فضول خرچی کی منظوری دے رہا ہے۔ جب تک ان بیوروکریٹ کی پکڑ نہیں ہو گی اور رشوت خوروں کو الٹا نہیں لٹکواﺅ گے، اس وقت تک بچت کا سوچنا بے کار ہے۔ اس وقت ملکی قرضے کے ٹو (K-2) کی چوٹی کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں اور اوپر جو بیٹھے ہیں وہ اپنے اثاثے چار گنا بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان کی پکڑ ہے اور نہ وصولی کی صورت۔ لگتا ہے کہ ملک جلد دیوالیہ کی حد عبور کو پہنچ جائے گا اور ملکی دولت لوٹنے والے لندن، پیرس اور امریکہ میں عیش کر رہے ہوں گے۔(میاں جمشید احمد۔ ادارہ تحفظ پاکستان۔فون:0333-4055649)
ہمارے حکمران
مکرمی! پرانی بات ہے جب کبھی چھٹی کے روز حلوہ پوری کی دکان سے 15 پوریاں لاتا گھر میں گنتے تو 13نکلتیں۔تنگ آ کر میں نے دکاندار سے شکایت کی ”یار میں 15پوریاں لیکر جاتا ہوں، رش کی وجہ سے یہاں دکان پر گِن نہیں سکتا۔ گھر جا کر گنتا ہوں تو 13نکلتی ہیں“۔ دکاندار نے کہا: ”آپ کو کونسا لڑکا پوریاں ڈال کر دیتا ہے“۔ میں نے ایک چھوٹے سے لڑکے کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ“ دکاندار نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: ”اوئے شاہ جی یہ تو 13 سے آگے گن نہیں سکتا“۔ پاکستان پورے کا پورا اُن لوگوں کے قبضے میں ہے جو اپنے مفادات کے آگے کچھ نہیں جانتا، نتیجہ کے طور پر عوام کے حصے میں کوئی سہولت نہیں ہے بلکہ دن بدن عوام کی اذیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے حکمران ایسے ہونے چاہئیں جنہیں کم از کم 100 تک گنتی آتی ہو....؟(ماجد علی شاہ، 302۔اقبال ایونیو، جوہر ٹاﺅن لاہور۔ فون:0300-4688221)