اپیل ایم ڈی واسا کے نام

مکرمی ! جناب ہم اہلیان چونگی سٹاپ محمد دین روڈ اسلام پارک جی ٹی روڈ نزد قائداعظم انٹرچینج داروغہ والا کے رہائشی ہیں درخواست ہے کہ اس آبادی میں پانچ سو سے زیادہ گھر ہیں۔ اس آبادی میں پینے کا صاف پانی اور مین سیوریج سسٹم موجود نہیں ہے مین سیوریج لائن نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کا پانی خالی پلاٹوں میں جھیل کا منظر پیش کرتا ہے اور پلاٹوں میں رکے ہوئے پانی کی بدبو سے بیماری پھیل رہی ہیں اور ہمارے بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ خدارا ہمارے بچوں کو بیماریوں سے بچائیں۔ دو ماہ پہلے سب انجینئر رانا رفاقت صاحب مین سیوریج لائن کاسروے مکمل کرکے گئے مگر ابھی تک کام جاری نہیں ہوا، خدارا ہمارا مسئلہ حل کیجئے تاکہ ہمیں پینے کا صاف پانی اور مین سیوریج کی سہولت مل سکے اور مین سیوریج جو مین جی ٹی روڈ سے مومن پورہ روڈ تک ایک کلو میٹر سے بھی کم فاصلہ ہے کے لئے فنڈ جاری کریں تاکہ کام جاری ہو سکے۔ (اہلیان علاقہ اسلام پارک، 0300-4681705، 0344-4380190)
سابق پرنسپل جی سی کلور کوٹ خادم پنجاب کی توجہ کا منتظر
مکرمی! چند رزو پیشتر روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر الحمرا ہال لاہور میں منعقدہ اس تقریب کی روداد دیکھنے کو ملی جس میں پنجاب کے کالجز کے 43 منتخب پرنسپلز کی فروغ تعلیم کے بارے میں کاوشوں کی سرکاری سطح پر پذیرائی کی گئی۔ مجھے اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ میں نے جناب وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ”ڈسپلن“ پر کمپرومائز نہیں کیا۔جولائی 2009ءمیں حکومت پنجاب نے پینل انٹرویو کے بعد میرٹ پر میرا تقرر بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج کلورکوٹ کیا۔ میں نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کالج کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ ساز کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہونے کے باعث اپنے کام سے اخلاص کی وجہ سے ممکن بنائیں اور ادارہ پر مسلسل 25 سال سے طاری جمود کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ اسے قصر گمنامی سے نکال پنجاب بھر میں شناخت دی۔گورنمنٹ کالج کلورکوٹ، سرگودھا ڈویژن کا واحد گورنمنٹ کالج ہے۔ جس نے سال 2010 میں انٹرمیڈیٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔چیف منسٹرز سپورٹ میں گورنمٹ کالج کلورکوٹ کی والی بال ٹیم پنجاب کی سطح پر سیمی فائنل تک پہنچی اور اتھلیٹکس میں بھی پنجاب لیول پر نمایاں اعزاز حاصل کئے گئے۔ کامیابیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ میری کامیابیوں سے حسد کرنے والی لابی مجھے یہاں سے جناب حسیب اطہر جیسی خوبصورت سوچ کی حامل شخصیت کے ہاتھوں ”ایڈمنسٹریٹو گراﺅنڈز“ پر ٹرانسفر کرانے میں کامیاب ہوئی اور میں فقط حیرت زدہ رہ گیا۔مجھے اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ جناب وزیراعلیٰ کی جانب سے بورڈ میں پہلی پوزیشن پر عطا کیا گیا ایوارڈ 50 ہزار روپیہ نقد کیش کی صورت میں دسمبر 2010ءمیں جائن کرنے والے نئے پرنسپل کے حصے میں کیوں آیا۔ مجھے اگر دکھ ہے تو یہی کہ مجھے اس تقریب میں شرکت کے اعزاز سے بھی محروم رکھا گیا۔کیا مجھے فرض شناسی کی سزا دی گئی کہ بغیر کسی انکوائری کے مجھے ٹرانسفر کر کے اس وقت سول سیکرٹریٹ پنجاب کے دھکے کھانے پر مجبور کر دیا گیا جب میں اپنے عظیم والدِ گرامی کے جسد خاکی کو لِحد میں اتارنے کے بعد ابھی اپنے آنسو بھی خشک نہ کر پایا تھا۔ اب میری بچیوں کی تعلیم سخت متاثر ہو رہی ہے۔ جناب محمد شہباز شریف جیسے انصاف پسند حکمران سے صرف انصاف کا طلبگار ہوں۔(محمد اقبال .... سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج کلورکوٹ)