’’لبیک میں پہنچتا ہوں‘‘

مکرمی! حجاج بن یوسف اسلامی تاریخ میں ایک سفاک اور ظالم گورنر کے طور پر بدنام ہے مگر اس نے بھی اسلامی حمیت وغیرت کا ایک نادر نمونہ چھوڑا ہے۔ سری لنکا کے ایک قافلے کو دیبل کے قریب راجہ داہر کے سپاہیوں نے لوٹ لیا عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ اس طوفان بلا سے ایک عورت کی زبان سے بے اختیار یہ فریاد نکلی۔ اے حجاج ہماری مدد کر مظلوم عورت کی فریاد سن کر وہ بے قرار ہو گیا وہ بے اختیار پکار اٹھا۔ میں ابھی مدد کو پہنچتا ہوں اس نے محمد بن قاسم کو حکم دیا کہ اس مظلوم عورت کو جلد سے جلد چھڑا کر لاؤ۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر سبق سکھا دیا کہ جس قوم و ملت میں غیرت مند نوجوان موجود ہوں اس کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کرنے والے زندہ نہیں رہنے چاہئیں کسی قوم کے بہادر ہونے کا فیصلہ غیرت وحمیت ہی کرتی ہے جو غیرت و حمیت کے موقع پر مصلحتوں کے بہانے بنائے وہ غیرت مند نہیں ہوتا اسے بے غیرت کہتے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنی ایک پاکستانی بے گناہ بیٹی کو امریکہ کی قید سے چھڑا نہیں سکتے جن ظالم لٹیروں غاصبوں نے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس بے گناہ بیٹی کو امریکہ کے حوالہ کیا وہ کل قیامت والے دن اپنے رب کی بارگاہ میں کیا منہ لے کر حاضر ہوں گے۔(راجہ عاشق اعوان امیر پنجاب تحریک عظمت اسلام 0321-4114584۱)