پی ٹی سی ایل کے پنشنرز سے ناانصافی اور زیادتی

مکرمی! گورنمنٹ آف پاکستان نے ماہ جولائی 2010ء سے پنشن میں اضافہ اور میڈیکل الائونس دینے کی جو منظوری دی ہے۔ وہ تین مہینے گزر جانے کے باوجود پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ نے پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کی پنشن میں لگانے کے آرڈر جاری نہیں کئے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ کے خیال میں پی ٹی سی ایل کے پنشنرز پر گورنمنٹ آف پاکستان کے رولز او آرڈر لاگو نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں آنرایبل ہائی کورٹ لاہور مورخہ 29.7.2003 میں فیصلہ صادر کر چکی ہے کہ وہ ملازمین جو پی ٹی سی ایل بننے سے پہلے سول سرونٹ کا سٹیٹس انجائے کر رہے تھے اور اسی سٹیٹس کے تحت پی ٹی سی ایل میں ٹرانسفر کر دیے گئے۔ وہ سول سرونٹ ایکٹ 1973ء کے تحت سول سرونٹ ہی ہیں اور پاکستان کی سروس میں ہیں۔ لہٰذا پی ٹی سی ایل کے پنشنرز جو پی ٹی سی ایل بننے سے پہلے سول سرونٹ تھے وہ بھی ان مراعات کے حقدار ہیں جن مراعات کے حقدار گورنمنٹ پنشنرز ہیں۔ میری وزیراعظم پاکستان سے استدعا ہے کہ وہ پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ کو پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کی پنشن میں اضافہ اور میڈیکل الائونس لگانے کے فوری آرڈر جاری کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔
(ملک محمد یونس 258۔ جی بلاک گلشن راوی لاہور فون 37460893)