فردِ قائم ربط ملت

مکرمی ! خان آف قلات نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’ہر بلوچ بچہ چاہے جوتوں اور لباس سے محروم ہو اس کے پاؤں تلے دو کلو سونا ضرور ہوتا ہے۔‘‘ عزیز قارئین! اگر ہماری حکومت خلوص نیت سے بلوچستان کے سینے میں دفن سونے اور تانبے کے ذخائر کو دریافت کرنے میں دلچسپی لے تو ہم ہر سال 9 سو ارب سے زائد رقم سالانہ حاصل کر سکتے ہیں۔ قلات آف خان کی بات پر آج بھارت پوری طرح عمل پیرا ہے اور بھارت کی ’’را‘‘ ایجنسی اپنے خونی پنجے بلوچستان میں گاڑے ہوئے ہیں اور بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لئے وہاں فساد، شر، نفرت، بدامنی، منافرت کے جراثیم، ناسازگار حالات کی گرما گرمی، طبقاتی تفاوت، اضطراب و تنہائی کا احساس جیسے حالات پیدا کر رہا ہے جبکہ ہمارے حکمران اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہوئے اور دنیا کے تین ذلیل بھارت، امریکہ اور اسرائیل بلوچستان میں مخدوش صورت حال پیدا کرنے کے لئے آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے ہیں جبکہ ہم آپس میں قصائی قصائی بنے ہوئے ہیں۔ اے اقتدار کے نشیئوںخدارا پاکستان کا احساس کرو اور اپنے وہ دن یاد کرو جب ایک لوہار بھٹی میں لوہا پگھلاتا تھا اور دوسرا کچی ٹاکی سے سنیما کے لئے اشتہار لگاتا تھا اور آج خدا نے پاکستان کے طفیل تم لوگوں پر اپنی رحمت سے اس خوبصورت پاکستان کے لئے منتخب کیا! اس باری تعالیٰ کا شکر ادا کرو!
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
(رانا عامر جاوید پھول نگر۔ چیئرمین تحریک احساس، فون 0300-4820789)