آئی سی سی ’’انٹرنیشنل کریمینل کونسل‘‘

مکرمی!ایک طرف تو آئی سی سی نے اوول ون ڈے میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزام سے باعزت بری کر دیا۔ اسی طرح ابھی تک تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر پر ایک برطانوی اخبار کی جانب سے لگائے گئے میچ فکسنگ الزامات جس کا نہ سر ہے نہ پاؤں ان تینوں کھلاڑیوں کو معطل کر دیا گیا اب ان کھلاڑیوں نے اپنی معطلی کو چیلنج کر دیا ہے لیکن آئی سی سی کی جانب سے بالخصوص آئی سی سی کے صدر اور آئی آئی سی گورننگ باڈی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کرکٹ ٹیم پر پابندی کی باتیں اور بغیر تصدیق ثبوت کے پاکستانی کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ پر الزامات سے اس کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا ہے اور یہ پاکستان کو کرکٹ دنیا سے آؤٹ اور ٹارگٹ کلنگ کے مترادف ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں حکومت پاکستان، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور دیگر ذمہ داروں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مقدمہ اور مؤقف پیش نہیں کر سکے۔ اس لئے برطانوی میڈیا وار جو دنیا بھر میں مشہور ہیں اس سے کرکٹ بورڈ اور قومی ٹیم کو نقصان پہنچا اس معاملے میں قومی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، حکومت، کرکٹ بورڈ اور عوام سے درخواست ہے کہ وہ سبز ہلالی پرچم پر ضرب کاری لگانے والوں کو منہ توڑ جواب دیں۔ (چوہدری فرحان شوکت ہنجرا ۔ منصورہ، ملتان روڈ لاہور، فون 0321-4291302)