’’مہنگائی کے خلاف جہاد‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’مہنگائی کے خلاف جہاد‘‘

مکرمی!مہنگائی اور وہ بھی مصنوعی مہنگائی صرف عوام کی بے صبری‘ لالچ اور روپے پیسے کی نمود و نمائش کا نتیجہ ہے جس سے ناجائز منافع خور‘ ذخیرہ اندوز‘ سٹے باز اور اشیائے خوردونوش پر ارادہ دار گینگ ہے۔ سب کو معلوم ہے کب حکومت کی ساری توجہ تو اس وقت دہشت گردی تک مرکوز ہے‘ باقی سب کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے‘ لیکن افسوس کی بات اور سوچنے کا مقام عبرت ہے کہ مہنگائی صرف کھانے پینے کی روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار باقی مصنوعات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ جہاں تک روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء خورودونوش کا تعلق ہے‘ صرف ایک ماہ کی شبانہ روز محنت سے ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں اور مہنگائی کا جن دم توڑ جائے گا۔ اگر ہم اپنے گھروں کا 25 فیصد حصہ باغبانی اور کاشتکاری کیلئے وقف کر دیں اور ہر قسم کی سبزیوںکے بیج بو دیں تو آپ کو اور حکومت کو کچھ ریلیف ملے گا۔ گوشت کی ضرورت نہ صرف گوشت کی ضرورت بلکہ دودھ اور دہی بھی آپ گھر پر تیار کر سکتے ہیں۔ اپنی ضرورت کے مطابق ایک چھوٹا سا پولٹری فارم تیار کر لیں۔ اس محنت سے آپ کو 75 فیصد بجٹ جو مزید آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کیلئے استعمال کی جاسکے گی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم کیبل‘ ٹی وی‘ ڈش‘ موبائل‘ لیپ ٹاپ‘ انٹرنیٹ اور ذخیرہ اندوزی کے بجائے حالات کی نزاکت کا احساس کریں۔(ڈاکٹر محمد ارشد148 بی علی ویو گارڈن جی او آر لاہور کینٹ)