یاد ِ رفتگان ........ صوفی غلام مصطفی تبسم

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
یاد ِ رفتگان ........ صوفی غلام مصطفی تبسم

مکرمی! 1965ء میں ہم سمن آباد میں رہتے تھے۔ 6 ستمبر 1965ء کو جب بزدل اور مکار دشمن ہندوستان نے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پر حملہ کیا۔ میں اس وقت مال روڈ پر واقع ایک دفتر تھنکرز فورم میں کام کرتا تھا۔ میرے ساتھ ملک کی نامور مصنفہ جمیلہ ہاشمی اور اظہر جاوید مرحوم کام کرتے تھے کوئی پونے دس بجے صبح جب ہندوستان کی فوج نے باٹا پور پر بم گرایا کو سارا لاہور لرز گیا تھوڑی سی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ہندوستان نے حملہ کر دیا ہے آپ یقین کریں۔ لاہور کے تمام باسی، بچہ، جوان بوڑھا، جو جس کے ہاتھ میں آیا لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور بے تحاشہ بارڈر کی طرف بھاگنا شروع ہو گئے اور پھر یہ جنگ پاک فوج اور پاکستانی عوام نے مل کر لڑی۔ ایوب خاں نے قوم سے خطاب کیا اور دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تمہیں معلوم نہیں تم نے کس قوم کو للکارہ ہے میرے سسر صوفی غلام مصطفے تبسم مرحوم اس وقت ریڈیو پاکستان لاہور پر اپنی خدمات دے رہے تھے۔ ٹیلی ویژن تو تھا نہیں لہذا سب کو تمام خبریں ریڈیو کے ذریعے ملتی تھیں۔ سارے شہر میں بلیک آئوٹ ہوتا۔ صوفی صاحب کو اندھیروں میں ریڈیو سٹیشن لاہور کی گاڑی لینے آتی۔ میں نے دیکھا پاکستان کے ہر شعبے کے آدمی نے اپنا وقت اپنی توانائیاں۔ اپنی جان وطن کے لئے وقف کر دی۔ شاعروں، ادیبوں گلوکاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ والہانہ طور پر ملک پر قربان ہونے کے لئے تیار رہے۔ برصغیر کی اکلوتی گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں نے خود ریڈیو سٹیشن پر فون کر کے حاضری دی اور اپنی خدمات پیش کر دیں۔ صوفی صاحب نے ترانہ لکھا۔ میرہا ڈھول سپاہیا تینو رب دیا رکھا نور جہاں نے اس جذبے سے گایا۔ کہ جنگ کے میدانوں میں آگ لگ گئی فوجی یہ ترانہ سن کر نعرہ لگاتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑتے۔ اس جنگ کا کلائمکس چونڈہ سیالکوٹ میں پیش آیا۔ دشمن نے لاہور سے ذلیل ہو کر سیالکوٹ کا رخ کیا۔ دشمن نے بے شمار ٹینکوں کے ذریعے سیالکوٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان ٹینکوں کو روکنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ کہ جوانوں اور آفیسروں کو اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے جانا تھا آپ یقین کریں کہ آفیسر جوان سب روتے رہے کہ ہمیں یہ موقعہ دیا جائے۔ لیکن فوج نے اپنے طریقہ کے مطابق جن لوگوں کو مقرر کیا تھا وہ ہی جوان بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے گئے جام شہادت نوش کیا۔ اور دشمنوں کو نیست و نابود کیا۔ اسی غم میں صوفی صاحب نے لکھا۔ ’’اے پتر ہٹھاں تے نئی وکدے توں لبدی پھریں بازار کڑے‘‘ خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں 65 والے جذبوں اور ایثار سے سرشار کر دے ہماری نسلوں اور مزید آنے والی نسلوں کو ایک پاکیزہ اور بابرکت معاشرہ نصیب ہو آمین! یہ وہ یادیں ہیں جنہیں میں بھلانا بھی چاہوں تونہیں بھلا سکتا۔  (ماجد علی شاہ)