باڈی بلڈنگ یا موت کا راستہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
باڈی بلڈنگ یا موت کا راستہ

مکرمی! فلمی ہیروز کی طرح آج کل کے نوجوانوں کو باڈی بلڈنگ کا جنون ہے۔ مگر وہ اس کیلئے شارٹ کٹ استعمال کرتے ہیںجس نے کتنے ہی نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یہاں میرا اشارہ میڈیسن اور ا سٹیرائڈزکا استعمال ہے۔ نوجوان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جن ہیروز کی کاپی کر رہے ہیں انکے پیچھے سخت محنت اور پوری ٹیم کی کوششیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا المیہ ہے کے یہاں باڈی بلڈنگ سائنس یا فٹنس کی تعلیم کا کوئی با قاعدہ ادارہ موجود نہیںجس کا فائدہ اٹھاکر جم اور ہیلتھ کلب میں اناڑی استاد"نوجوانوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ یہ دھندا صرف کلب تک محدود نہیں۔ جم ٹرینرز سے لے کر میڈیسن امپورٹر تک سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ باڈی بلڈنگ کلبز میں "استادلڑکوں کو تین سے چار ہفتوں میں زیرو سے ہیرو سے بنا نے کا لالچ دے کر غیر سپلیمنٹ اورا سٹیرائڈزکی لت لگا دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نوجوان ظاہری طور پہ تو بہت تندرست لگتا ہے مگر اندرونی طور پر ایسے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے کہ انکے بارے میں سوچ کر ہی انسان کانپ اٹھے۔ حکام بالا اور متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کے تمام جم اور فٹنس سینٹرز کی نگرانی کے علاوہ ان کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے۔ جم میں ٹرینرز کے لیے ٹریننگ سرٹیفیکٹ کی بھی شرط رکھی جائے۔ (طحہ قدوائی)