میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا

شاعر‘ ادیب‘ مصنف اور نوائے وقت کے معروف کالم نگار تنویر ظہور ادب کی دنیا کا ایک قابل فخر نام ہے۔ زیر نظر کتاب ’’میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا‘‘ ان کا ایسا شاہکار ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات قلمبند کئے ہیں اس لئے اس کتاب کو انکی خودنوشت بھی کہا جا سکتا ہے۔ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ‘ حصہ اول میں چند ابواب انکی مادرِ علمی اور حالات زندگی کے بارے میں ہیں جبکہ دوسرا حصہ ان شخصیات کے حالات زندگی پر مشتمل ہے جنہوں نے انہیں شرفِ ملاقات بخشا۔ان میں سماجی اور ثقافتی اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات شامل ہیں۔ تنویر ظہور نے ان شخصیات کے ساتھ گزارے لمحات اور انکی زندگی کے مختصر حالات کو انتہائی خوبصورت انداز سے تحریر کیا ہے۔تنویر ظہور محترم مجید نظامی کے بڑے مداح ہیں‘ جس کا ذکرانہوں نے بڑے انہماک سے کتاب میں کیا ہے۔ نظامی صاحب کے نڈر اور بے باک ہونے کا برملا اعتراف کیا کرتے ہیں۔ ‘ انکا کہنا ہے ’’ نظامی صاحب سے انکی دوتین ملاقاتیں ہوئیں ‘ ان چند ملاقاتوں کی یادیں مجھے معطر کئے رکھتی ہیں۔ میری کتاب ’’وڈے لوک وڈیاں گلاں‘‘ شائع ہوئی جسے پیش کرنے میں نظامی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اس پر میں نے پنجابی میں لکھا ’’نڈر‘ ان جھک‘ دلیر‘ صحافت دے لج پال‘ آدرمان‘ محترم نظامی دی سیوا وچ‘‘۔ کتاب پیش کرنے کے بعد میں نے بتایا کہ بے باک اور آبروئے صحافت کا ترجمہ ’’ان جھک اور لج پال‘‘ کیا ہے‘ جس پر نظامی صاحب نے کہا کہ میں پنجابی سمجھتا ہوں اور بولتا بھی ہوں‘ پھر ساری گفتگو انہوں نے پنجابی میں کی۔ میں نے فرمائش کی کہ کتاب پیش کرتے ہوئے تصویر اتروانا چاہتا ہوں‘ انہوں نے فرمایا ’’تصویر کیوں اتروانا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی ‘ اس تصویر کو دیکھ کر میری اولاد فخر سے کہہ سکے گی کہ ہمارے بابا کی تصویر ایک عہد ساز شخصیت کے ساتھ ہے‘‘ جس پر نظامی صاحب زیرلب مسکرا دیئے۔ یہ تصویر آج بھی میرے ڈرائنگ روم میں آویزاں ہے۔ صاحب ِ کتاب محترم سعید آسی صاحب کے ساتھ بھی اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔کتاب میں کئی دیگر شخصیات کے ساتھ بھی انکی بے پایاں محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔ تنویر ظہور کو انکی ادبی خدمات کے عوض لاتعداد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے جن میں پنجابی ادب ایوارڈ‘ ملینیم ایوارڈ‘ ہنرک ابسن ایوارڈ ‘ استاد دامن میموریل ایوارڈ وغیرہ قابل ذکر ہیں جو انہیں ملکی اور غیرملکی تنظیموں کی طرف سے ملے ہیں۔ کئی ممالک میں وہ سیمینار اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ اس وقت انکی 28 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں آٹھ پنجابی‘ باقی اردو زبان میں ہیں جبکہ تین شعری مجموعے بھی شامل ہیں۔ انکی پنجابی ادبی خدمات پر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی ایم ایس (پنجابی) کی طالبہ نے تحقیقی مقالہ لکھا جو کتابی صورت میں دستیاب ہے۔کتاب کے آخری صفحات ان یادگار تصاویر سے مزین کئے گئے ہیں جن میں تنویر ظہور کی سکول کالج کے علاوہ ان چند اہم شخصیات کے ساتھ گروپ فوٹوز بھی شامل ہیں۔ یقیناً قاری کتاب پڑھ کر انہیںداد تحسین دیئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ 200 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 900/- روپے ہے جسے سنگ میل پبلی کیشنز 25۔ شاہراہِ پاکستان (لوئرمال) لاہور نے شائع کیا ہے۔
فون: 92-423-722-0100- 722-8143۔ (تبصرہ : سلیم اختر)