میٹرو بس سسٹم ... تنقید بلاجواز ہے

میٹرو بس سسٹم ... تنقید بلاجواز ہے


مکرمی! 10 فروری کو خادم اعلیٰ نے میٹروبس منصوبے کا افتتاح کیا جس کی مخالفت پورے زور شوزور سے کی گئی ۔تنقید کرنے والے یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ منصوبہ لاہور میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی شہروں میں چل رہا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت کے شہر احمد آباد میں میٹرو بس سروس موجود ہے۔ اسی طرح ترکی کے دارالحکومت استنبول میں میٹروبس سروس کا منصوبہ 2005ءمیں شروع ہوا اور 2007ءمیں مکمل ہوا ۔ استنبول میں اس ٹریک کی کل لمبائی 50 کلومیٹر ہے اور اس پر45 سٹیشن تعمیر ہیں۔ لاہور میں یہ منصوبہ مختصر ترین مدت اور کم بجٹ میں مکمل ہوا ۔لاہور میں یہ ٹریک27 کلومیٹر کا ہے اور شروع میں 45بسیں چلائی گئیں۔ایک بس روزانہ 16 گھنٹے چلا کرے گی جس کا آغاز صبح 6 اور اختتام رات ساڑھے 10 بجے ہو گا۔ یہ بس ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں شہرکے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جائے گی۔ یہ منصوبہ بلاشبہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے اس منصوبے پر تاحال30 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور مزید 10 ارب خرچ ہونے پر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا ۔ میٹرو بس کے حوالے سے ناقدین کی تنقید جو بلا جواز ہے کیونکہ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے پوری دنیا میں ذرائع مواصلات و تعمیرات کو جدید اور ترقی دی جا رہی ہے بالخصوص لاہور کی دن بدن بڑھتی ہوئی آبادی سے سڑکیں کم پڑگئی ہیں، ایسے میں یہ منصوبہ کسی نعمت سے کم نہیں۔جہاں تک شہر میں سڑکوں کی کھدائی اور دھول کا تعلق ہے تو تعمیراتی کاموں کے لئے عوام کو عارضی طورپر مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے مگر جب منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو وہی عوام ہمیشہ کے لئے اس سے استفادہ بھی تو کرتے ہے۔ میٹرو بس منصوبہ کے حوالے سے ہاں البتہ یہ مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ خادم اعلیٰ اندرون شہر لاہور لوہاری ، لکشمی چوک، دہلی گیٹ، اکبر ی منڈی کی شاہراہوں کو بھی وسیع کریںکیونکہ اندرون شہر گھنٹوں ٹریفک بلاک رہتی ہے ۔ (طیب ورک لاہور)