قصہ درد سناتے ہیں

قصہ درد سناتے ہیں


مکرمی! میری بیٹی عائشہ ظہیر کو بلڈ کینسر تھا۔ بچی کے علاج پر گھر کا سامان وغیرہ بک چکا ہے۔ اور قرض بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ میرا مستقل کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ میرے تین بچے ہیں۔ بعض دفعہ بچوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے اور میں سوائے بے بسی کے کچھ نہیں کر سکتا۔ والدہ شوگر کے مریضہ ہیں۔ ان کی ادویات بھی لانا ہوتی ہیں۔ جن لوگوں سے قرض لیا ہوا ہے وہ بھی بہت تنگ کرتے ہیں۔ میری چار بہنیں ہیں۔ دو کی شادی کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہے۔ زندگی سسک سسک کر گزر رہی ہے۔ اللہ کے بندوں سے ہی مدد مانگ رہا ہوں۔(ظہیر عباس ولد محمد نعیم اختر وارڈ نمبر 8پکا ریلوے روڈ نزد پرانی چونگی مکان نمبر 679 جھنگ شہر 0300-5296451)