جمہوری عمل کا تسلسل اور سیاسی استحکام کا مستقبل

جمہوری عمل کا تسلسل اور سیاسی استحکام کا مستقبل


مکرمی!اس امر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پیپلزپارٹی اپنی حیثیت میں پاکستان کی سب سے بڑی عوامی اور سیاسی پارٹی ہے وہ اپنی قیادت سے سیاسی رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ عوام کے جمہوری اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے اس کی تاریخ کم و بیش ساڑھے چار عشروں پر محیط ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر شہید محترمہ بےنظر بھٹو اور ان کے بعد جناب آصف علی زرداری تک جب بھی کبھی وسیع تر قومی مفاہمت کیلئے مذاکرات ڈائیلاگ یا افہام و تفہیم کی صورتحال پیدا ہوئی تو پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور اس کے موقف نے ہی قوم اور ملک کی سیاسی رہنمائی کے اسباب پیدا کئے۔ نام نہاد انقلابی تحریکوں، سونامیوں کے دعویداروں یا گرینڈ الائنسوں کی سیاست کرنے والے گروہوںہجوموں کے ذریعے سیاسی ڈیڈلاک پیدا کرنے والوں کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ آمریت چاہئے ضیاءالحق کی ہو یا پرویز مشرف کی یا پھر خواہشوں کی ایسی ہی کسی دوسری قوت کی اس کے لئے و قتی طور پر کوئی عبوری حکومتی سیٹ اپ قائم کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے لہذا اس کے لئے ضروری نہیں کہ قوم کو بار بار نئے سرے سے اے بی سی پڑھانے و الوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ ضروری امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل کی خواہش رکھنے والے تمام سیاسی عناصر اور سٹیک ہولڈرز آئندہ سے کسی بھی طالع آزما کیلئے اقتدار پر قبضے کی خواہش کو عوام کی شعوری مزاحمت سے ناممکن بنانے کی حکمت عملیاں ترتیب دیں جس کے لئے سیاسی ہم آہنگی کے عنصر کو جوہری اہمیت حاصل ہو۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادتوں کے مابین ہونے والے میثاق جمہوریت کی اصل روح بھی یہی ہے کہ پاکستان میں طالع آزماﺅں کیلئے اقتدار میں آنے کا راستہ ہر قیمت پر روکا جائے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت میں اتحادی حکومت اپنے اقتدار کے دورانیے کے آخری ہفتوں میں داخل ہوچکی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جمہوری حکومت نے درجنوں ڈیڈ لائنوں کا سامنا استقامت ،ا فہام و تفہیم اور قوت برداشت سے کیا۔ جمہوریت پر مستحکم یقین اور جمہوریت کی بالادستی کی خواہش رکھنے والے تمام سیاسی عناصر کیلئے یہ امر بلاشبہ خوش آئند ہے کہ پاکستان کی قومی تاریخ میں پہلی بار انتقال اقتدار جمہوری عمل کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ایک جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت ختم کر کے انتخابات جیت کر آنے والی نئی حکومت کے حوالے کرے گی۔ وطن عزیز میں جمہوری عمل کے تسلسل، سیاسی استحکام کے مستقبل کیلئے بڑی ذمہ داری ملک کی مقبول سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں پر آتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں قوم اور ملک کی فلاح و بہبود کیلئے اپنا پروگرام اور منشور بہتر انداز قوم کے سامنے پیش کریں اور سیاسی تلخیوں میں اضافے سے بچنے کیلئے بلیم گیم میں اپنی صلاحیتوں کو بلاضرورت ضائع ہونے سے گریز کریں۔ (محمد عمر فاروقی، لارنس روڈ لاہور03224043797)