ہم اسلام کو بھی بھول چکے ہیں

مکرمی!”اسلام صاحب“ سے میرا پہلا غائبانہ تعارف ہوش سنبھالتے ہی کروایا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ اسلام صاحب قیام پاکستان سے بہت پہلے ہمارے گاو¿ں میں بس گئے تھے۔ بہت ہی نیک آدمی ہیں۔ ان کی باتوں میں مکمل ضابطہ اخلاق چھاپ ہے۔ ”اسلام صاحب“ سے عقیدت رکھنے والا اور ان کے مشوروں پر عمل کرنے والا کبھی ناکام ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی اور دنیاوی ہر دو کامیابیوں کی کنجی اسلام صاحب کے افکار میں ہے۔ میرے بڑے‘ بزرگ‘ اہل محلہ‘ اہل شہر سب اسلام صاحب کے بارے میں ایک ہی رائے رکھتے تھے اور ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ جہاں سب ان کی شخصیت کے سحر میں مبتلا تھے‘ میں بھی ہوش سنبھالتے ہی ”اسلام صاحب“ کا گرویدہ ہو چکا تھا۔ ذرا بڑا ہوا تو میں نے محسوس کیاکہ لوگوں کے دعوے کے برعکس‘ اسلام صاحب کے ماننے والے نا کام اور کسی حد تک بدنام ہو رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسلام صاحب سے ایک ملاقات کی جائے اور ان سے ذرا پوچھوں تو سہی کہ میں تو بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ تمام تر کامیابی کی تراکیب آپ سکھاتے ہیں تو پھر آپ کے شاگرد اور ماننے والے کیوں اس حال کو پہنچ رہے ہیں۔؟ میں نے ان سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ خیال تھا کہ ایک دو گھنٹے میں کسی سے ان کا پتہ معلوم کرکے ان پاس پہنچ جاو¿ں گا۔ میں نے اپنے آس پاس‘ محلہ میں‘ یہاں تک کہ شہر کے ایک ایک آدمی سے ان کا ایڈرس پوچھا مگر کسی کو بھی ان کا ایڈریس معلوم نہ تھا۔ ہر جگہ ان کی تلاش کیا‘ ہر ایک سے ان کا پوچھا‘ پرکسی سے ان کا پتہ نہ چلا کہ وہ ہیں کہاں۔ بہت تلاش کے بعد مجھے احساس ہونے لگا کہ ”اسلام صاحب“ کے گرویدہ اور ماننے والے تو گلی گلی اور کوچہ کوچہ موجود ہیں مگر ان سب میں سے کسی کو بھی نہ تو اسلام صاحب کا ایڈریس معلوم ہے اور نہ ہی کسی کی ان کی کبھی ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے بھی ٹھان لی کہ کبھی نہ کبھی ان سے ملاقات کرکے اپنا سوال ضرور ان کے سامنے رکھوں گا۔ میری تلاش برسوں پر محیط ہو گئی اور پھر میں نے دیکھا کہ اسلام صاحب کے ماننے والوں نے ان کے بارے میں اپنے اپنے خاکے تحریر کر رکھے ہیں۔ ان کی شخصیت پر کتابوں کی کتابیں لکھ ماری ہیں۔ لیکن ہر کسی کی تحریر اور ان کے بارے میں خیالات دوسرے سے مختلف ہیں۔ مجھ پر یہ عقد کھلا کہ اسلام صاحب کو ”مانتے“ تو سب ہیں مگر ان کو ”جانتا“ کوئی نہیں۔ کوئی کہتا کہ اسلام صاحب لمبے قد کے ہیں کوئی کہتا کہ وہ مناسب قامت رکھتے ہیں۔ آخر جب لوگوں کی لڑائیاں بہت بڑھ گئیں تو میں نے تھک ہار کے اخبار میں ”تلاش گمشدہ“ کا ایک اشتہار دے دیا اور اس میں اسلام صاحب کی منت سماجت بھی کی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں اگر یہ اشتہار ان کی نظروں سے گزرے تو وہ واپس آکر ان لڑائی جھگڑوں کو ختم کروائیں۔جس روز میں نے اشتہار دیا‘ اس روز ایک بزرگ مجھے خواب میں ملے۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ تمہارے شہر کے سب لوگ جو بظاہر اسلام صاحب کے گرویدہ ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر ان کا نام لے کر مرنا مارنا شروع کر دیتے ہیں‘ ان میں سے کسی کو بھی آج تک ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ اسلام صاحب کو آخری مرتبہ حضرت عمرؓ کے دور میں اور پھر ایک مرتبہ کربلا کے میدان میں دیکھا گیا تھا۔ حضرت عمرؓ کے تو یہ مشیر تھے اور ان ہی کی مدد اور مشوروں سے حضرت عمرؓ نے ایسی سلطنت قائم کی کہ جس کی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آخری مرتبہ ان کو کربلا کے میدان میں دیکھا گیا۔ جہاں حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاءکی جانب سے بہادری‘ ایثار اور قربانی کی انتہا کا مظاہرہ کرنے کے باوجود‘ بظاہر ان ہی کا نام لینے والوں نے ظلم اور بربریت کی وہ مثالیں قائم کیں کہ اس کے بعد یہ بزرگ شاید ہم سے ناراض ہو کر کہیں چھپ گئے ہیں۔ اب نہ جانے کب ان کی ناراضگی ختم ہو گی اور کب وہ شرف ملاقات بخشیں۔
(ڈاکٹر احمد سلیم،لاہور )