کیمپ جیل لاہور میں قیدیوں کی پراسرار ہلاکتوں کا تسلسل....!

مکرمی! اخبارات میں آئے روز جیلوں میں قیدیوں‘ حوالاتیوں کی پراسرار ہلاکتوں کی خبریں چھپتی ہیں۔ کیمپ جیل لاہور میں بھی چند ماہ کے دوران کئی قیدی موت کے منہ میں چلے گئے لیکن ان کی جوڈیشل انکوائری کرائی گئی نہ انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے آواز اٹھائی۔ جیل میں قیدی کی ہلاکت پر صرف علاقہ مجسٹریٹ کی ”معمول کی رپورٹ“ کے بعد کارروائی داخل دفتر کر دی جاتی ہے۔ جیل کی زندگی اور قیدیوں‘ حوالاتیوں پر تشدد فلم اور ڈراموں میں دکھائے جانے والے واقعات سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ جو اکثر اوقات قیدیوں کی ہلاکت پر منتج ہوتا ہے۔ لہٰذا چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری سے گزارش ہے کہ کیمپ جیل میں قیدیوں کی ہلاکتوں کی انکوائری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے کرائی جائے اور تشدد ثابت ہونے پر نہ صرف عملہ کو برطرف کیا جائے بلکہ ان کے خلاف قتل کے مقدمات درج کر کے پس دیوار زنداں دھکیل دیا جائے۔
(صاحبزادہ بابر فاروق رحیمی (ایڈووکیٹ‘ ممبر ہیومن رائٹس) 0300-9479913)