چلو کہ منزل بلا رہی ہے

مکرمی! ہماری منزل کیا ہے۔ ہمیں کس منزل کی جانب بڑھنا ہے؟ ہمیں ہماری منزل بلا رہی ہے اور ہم خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس قوم کو اپنی منزل کا ہی پتہ نہ ہو وہ گمنام رستوں پر چلتی رہتی ہے۔ نہ اسے یہ معلوم کہ ہم کون ہیں۔ ہماری قدرو قیمت کیا ہے۔ ہمارا مقصد حیات کیا ہے۔ وہ اپنے مالکِ حقیقی کو چھوڑ کر اپنے سے طاقتور کی غلام بن جاتی ہے اسی کو سب کچھ سمجھنے لگتی ہے۔ اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوکر سب نیچوں سے نیچ ہو جاتی ہے۔ جن سے کبھی ٹکرا جاتی تھی اور ان کو زیر کر لیتی تھی پوری قوم اپنے ان دشمنوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن جاتی تھی۔لیکن اللہ کو بھول کر جب تمام بڑی طاقتوں کی غلامی میں آگئی تو اپنے روایتی حریف کو بھی اپنا آقا ماننے پر تیار ہو گئی اس سے بڑھ کر اور کوئی گراوٹ ہو سکتی ہے؟ اگر ہمارے اندر ضمیر نام کی کوئی شے ہے تو اس سے پوچھیں ہم کن لوگوں کو مسند اقتدار پر بٹھاتے ہیں۔
(زاہد رضا خاں لاہور)