قاتل.... قاتل لوگ اور معاشرہ

مکرمی! قاتل.... ا کسی دوسرے معصوم بے گناہ انسان کو جان سے مارنے۔ انسانوں کی سوچ، اظہار پر پابندی لگانے والا۔ انسانوں کو ایجادات، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور روشناسی پر پابندی لگانے والا۔جمہوریت کے تسلسل (قومی و لوکل باڈیز الیکشن) میں رکاوٹ ڈالنے والا۔ میرٹ کی خلاف ورزی کرنے والا۔آئین و قانون کے طے شدہ دائرہ کار میں عائد کردہ ذمہ داریوں سے غفلت، کوتاہی کرنے والا۔ اجتماعی دانش (جمہوریت) کے قتل کے بعد اس معاشرے میں رہنے والے لوگوں کا حال بے آسرا یتیموں جیسا ہو جاتا ہے۔ اور سرپرست لوگ قومی خزانہ امداد و خیرات کے پیسے سے موج اڑاتے ہیں۔ نام نہادجمہوری سیاسی رہنما اگر اپنی سیاسی جماعت اور کام کرنے کے انداز میں جمہوری رویے اختیار نہیں کرتے تو وہ بھی کارکنان / شہریوں کے حقوق کے قاتل کہلائیں گے۔ (آئین و قانون اور اپنی عائد کردہ ذمہ داریوں کا قاتل)ایک فرد.... افراد کا گروپ.... ادارہ یا ملک.... ایسے سب لوگ انسانیت کے قاتل۔جس دنیا، ملک یا معاشرے میں ایسے قاتل لوگ رہتے ہوں وہاں امن و امان، خوشی خوشحالی، جان و مال کے تحفظ کا احساس.... ایک خواب رہتاہے۔ ایک مشاہدہ.... جس معاشرے، ملک یا ملکوں میں ایسے قاتل لوگوں پر یا ایسے واقعات رونما ہونے پر قانون کے ذریعے سختی سے کنٹرول رکھا جاتا ہے وہاں کے رہنے والے امن و امان، جان و مال کے تحفظ کے احساس، خوشی، خوشحالی کی زندگی بہتر طور پر گزارتے ہیں۔ عالمی سطح پر ممالک کے ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر بقائے باہمی امن کی صوت نکل سکتی ہے۔ وگرنہ طاقتور کی من مرضی۔
(رانا احتشام ربانی، پوسٹ بکس نمبر01 جی پی او اوکاڑہ 0300-9424927)