یہ تعلیمی نظام!

مکرمی ! ظلم، ستم ظریفی نوٹ کریں ایک طرف تعلیمی ادارہ آٹھویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات کو لازمی قرار دے رہا ہے تو دوسری جانب طالب علموں کے امتحان کے شیڈول پر بڑی بے دردی کے ساتھ شب خون بھی مار رہا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے اور یہ کہاں کا قانون ہے کہ پورے سال کی محنت محکمہ تعلیم ٹوٹل چھ دن میں چیک کر رہا ہے۔ نیز امتحانات کے شیڈول کا بغور مطالعہ کریں تو والدین کے ہاتھ کے طوطے اڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ قسم کھا کر کہتی ہوں محکمہ تعلیم کے کرتا دھرتاؤں نے ہر پاکستانی طالب علم اپنا بیٹا یا بیٹی محسوس کیا ہوتا تو پھر اس طرح کی امتحانی ڈیٹ شیٹ ترتیب نہ دیتے کہ ہر روز دو عدد پرچے، صبح اور شام لئے جاتے۔ جناب ڈیٹ شیٹ دیکھ کر محسوس تو ایسا ہوتا ہے کہ طالب علم کی ذہانت کا ٹیسٹ نہیں بلکہ طالب علم بامقابلہ سازش تعلیم زیادہ محسوس ہوتا ہے تاکہ نہ قوم کے بچے پاس ہو سکیں اور نہ ہی ان جعلی ڈگری رکھنے والے سیاستدانوں کا مقابلہ کر سکیں اور نہ ہی ملک کی ترقی میں حصہ دار بن سکیں۔ یہ تعلیمی نظام عوام کو نامنظور ہے لہٰذا وزیر تعلیم سے درخواست ہے کہ حسب وعدہ اس مسئلے پر توجہ دی جائے۔ نیز آٹھویں جماعت کی ڈیٹ شیٹ میں ایک دن میں دو پیپرز کی بجائے ایک پیپر کی مناسب تبدیلی کر کے اپنے دردمند محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں۔ (نیر صدف ۔ دھرم پورہ لاہور، فون 03004419216)