مٹی میں رُل گیا ہے انمول نگینہ

دیکھو تو سہی آ کے ذرا شاہ مدینہ........... زخموں سے چُور چُور ہے شبیر کا سینہ
طغیانیوں میں گھِر گئی ہے آل تمہاری.......... ڈوبا ہے اہل بیت کا کربل میں سفینہ
تڑپا ہے تیر کھا کے جو ننھا سا مجاہد........ مٹی میں رل گیا ہے، انمول نگینہ
ہائے وہ اپنے خون میں ہیں آج تر بتر......... بہتے ہوئے نہ دیکھا کبھی جن کا پسینہ
ساری فضا میں سوگ سا ہو جاتا ہے طاری............. آتا ہے محرم کا جو پُرسوز مہینہ
اُن کی عطا ہے لکھ رہا ہوں نوحہ میں جن کا.......... خواہش تھی میری کب سے، حسرت تھی دیرینہ
حُب حسین دل میں بسا لے اے چودھری............. بخشش کا راستہ یہی جنت کا ہے زینہ
دیکھو تو سہی آ کے ذرا شاہ مدینہ........... زخموں سے چور چور ہے شبیر کا سینہ
(چودھری عبدالخالق)