مسلم امہ! ’’السلام علیکم‘‘

مکرمی! جب ہم کسی کو السلام علیکم کہتے ہیں تو حقیقت میں اس کیلئے سلامتی کی دعا مانگتے ہیں۔ جواب میں وہ بھی وعلیکم السلام دہراتا ہے اور ہمارے لئے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ سے سلامتی کی دعا کرتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھیں اور سمجھیں تو صاف نظر آئیگا کہ ہم جب ایک دوسرے کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں تو اس سے دشمنی کیسے کرسکتے ہیں۔ اسے جانی اور مالی نقصان کیسے پہنچا سکتے ہیں۔ اللہ اور اسکے رسولؐ کا ہم مسلمانوں پر کتنا بڑا احسان ہے کہ ہمارے درمیان السلام علیکم کی دعا رائج کرکے ہمیں آپس میں محبت کا سبق دیدیا اور ہمارے ذہنوں میں یہ بات پختہ کردی کہ جن کی سلامتی کی دعا کرتے ہو ان سے کبھی دشمنی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ انکی دعائوں کو سنتا اور قبول کرتا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ آپس میں مسکراتے ہوئے السلام علیکم کہہ کر دلوں کو جیت لیں اور دعا کو عام کریں۔ یہی دعا بھائی چارے، پیار محبت اور خلوص کا پُراثر مجرب نسخہ ہے۔ (محمد فیاض انصاری۔ 29/A رحمن پورہ لاہور)