جمہوریت میں آمرانہ فیصلے

مکرمی! ملکی حالات کسی بڑے انقلاب کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جہاں آئے روز عدلیہ کا مذاق اڑایا جاتا ہو۔ سزا یافتہ لوگوں پر سے الیکشن لڑنے کی پابندی ہٹائی جارہی ہو۔ جہاں عوام بھوک، غربت کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔کسی کی عزت جان و مال محفوظ نہ ہو جہاںڈاکو چور لٹیرے رشوت خور بدعنوان لوگوں کوصاحب اور شرفاء امام مسجد اور استاد کو کمّی کا درجہ دیا جاتا ہو۔ قانون ایسا ہو کہ غریب کیلئے کچھ اور پیسے والے کیلئے اور ہو۔ تو ان سارے منفی عوامل کا واحد حل یہی نظر آتا ہے جس کا نام انقلاب ہے خونیں انقلاب جب تک جمہوریت میں آمرانہ فیصلے ہونا بند نہیں ہوجاتے حکمران عوام دوستی کاثبوت نہیںدیتے وہ یقینا انقلاب کو آواز دیتے ہیں مگر وہ انقلاب سے ناواقف ہیں ابھی وقت ہے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔پھر پچھتائے کیا بنے جب چڑیا چگ گئیں کھیت۔ (صوبیدار(ر)مختار احمد اعوان: کوٹ لکھپت لاہور)