نہرو کا وعدہ

مکرمی! میرا تعلق پاکستان کی اس نسل سے ہے جس نے کم عمری میں ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا۔ میں نے حضرت قائداعظمؒ کی وفات کے بعد کشمیر کو دو دفعہ فتح ہوتے دیکھا ہے۔ ایک 1949ء میں مگر اس فتح کو اس وقت کے نادان وزیراعظم نے ڈاکٹر گراہم اور نہرو کے جھوٹے وعدے پر ضائع کیا اور دوسری بار 1965ء میں جبکہ کشمیر صرف ایک دھکا اور دو کے بعد فتح ہو جاتا مگر شومئی قسمت کو کیا کہئے۔حکومتی ’’نابالغان‘‘ اب سر توڑ کوشش میں ہیں کہ ہندوستان کشمیر پر بات سُن لے۔ ہندو کو اب تک کے برصغیر کے مسلمانوں میں سے صرف قائداعظمؒ نے پہچانا۔ 1948ء میں قائداعظم سے نہتے پاکستانیوں کو کشمیر پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا لوگ کلہاڑیاں، ڈنڈے، چھریاں لے کر کشمیر میں ٹوٹ پڑے مگر قائد کی وفات سے سب کچھ چکنا چور ہو گیا اور U.N.O کی قرارداد آگئی سیزفائر ہو گیا۔ بے ایمان ’’ہندو‘‘ نہرو نے یہ تقریر کی \\\"We don\\\'t believe in forced marriges. If Kashmiris do not want to join India they can go their way and we will go ours\\\"اس تقریر کی ریکارڈنگ P.T.V کے پاس موجود ہے (اگر کسی غدار نے اسے بیچ نہ کھایا) بانکی مون کہتا ہے جب تک پاکستان اور انڈیا مشترکہ طور پر UNO کو کشمیر کے تصفیہ کی درخواست نہیں کرتے وہ کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے ہر چینل کو نہرو کی مذکورہ تقریر کی ٹیپ ہر خبرنامہ سے پہلے چلانی چاہئے اور UNO کی قرارداد کا نمبر کی ٹیپ چلانی چاہئے۔ فارن آفس ہندوستان سے براہ راست بات کرنے سے انکار کر دے۔ UNO سے اپنی قرارداد پر عمل کا مطالبہ کرے اور روزانہ کرتا رہے تاآنکہ یہ بھی کہہ دیا جائے کہ UNO بے کار ادارہ ہے اسکو ختم کیا جائے پھر سب ملک انپے اپنے زور بازو سے اپنے پڑوسیوں سے حساب چکا لیں۔ (پاکستان کا ایک پریشان شہری … غلام حسین)