قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

مکرمی! مستقبل کے پردے میں کیا پوشیدہ ہوتا ہے یہ کوئی بھی نہیں جان سکتا سوائے خالق کائنات کے‘ حالیہ تباہ کن سیلاب آنے سے قبل کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ اس سیلاب کی زد میں آنے والے بے یارومددگار اور زندگی کی خوشیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ سیلاب تو آ کر گزر گیا‘ لیکن اس کے اثرات باقی ہیں ہم ضلع مظفر گڑھ تحصیل کوٹ ادو کے علاقے میں رہتے تھے۔ تونسہ بیراج جو دریائے سندھ پر واقع ہے وہ ہم سے فقط چالیس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسی نزدیکی کی وجہ سے سیلاب کی لہروں نے ہمارے علاقے میں زیادہ تباہی مچائی۔ 14 فٹ تک پانی آیا‘ ہمارے گھروں میں جو کمرے بند تھے ان کے روشن دانوں سے پانی کمروں میں داخل ہوا‘ ہم نے درختوں پر پناہ لے کر جان بچائی‘ ہماری فصلیں گھر کا سامان اور مکانات سیلاب کی نذر ہو گئے‘ جہاں کچھ مدت قبل خوشیوں بھری زندگی بسر کی جا رہی تھی وہاں اب ویرانی اور دکھوں کا راج ہے‘ کل تک ہم بفضل تعالیٰ بہت سوں کی مدد کرتے تھے اور آج امداد کے منتظر ہیں۔ وقتی طور پر ہم لاہور کے ایک متوسط علاقے میں رہائش پذیر ہیں تعمیر نو کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ اس بے سروسامانی کے عالم میں مخیر حضرات سے مدد کی اپیل ہے۔( فون نمبر 0334-7564279)