قائداعظمؒ اور علامہ اقبال کا پاکستان

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! اخبارات میں خبریں پڑھیں کہ چین کے وزیر ریلوے کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے فارغ اور سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا۔ دوسری طرف بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سابق وزیرکو اپنے ملازم سے زیادتی کے باعث گرفتار کر لیاگیااس کے علاوہ بارہا ایسی غیر ملکی خبریں ملتی رہتی ہیں جہاں جتنی بڑی مچھلی کا گناہ ہو اس کو اتنی ہی بڑی سزا دی جاتی ہے۔ لیکن ہائے ہائے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے پاکستان کارونا رونے والے کسی بھی سابق یا موجودہ حکمران نے کسی ایسے مگر مچھ کو سزا دلوائی ہو شاید ہی کسی نے سنا ہو لیکن یہ سزائیں دلوائے تو وہ جس کا اپنا گریبان صاف ہو۔ 65 سال میں جو آیا اس نے خوب کھایا اس کا برا سوچا وقت پورا کیا اور ختم‘ پاکستان میں ہزار ہا کیس ایسے ہیں جن پر کرپشن بدعنوانی مکمل طور پر ثابت ہو چکی ہے لیکن صرف مقدمات چلا کر وقت کاضیاع کیا جا رہا ہے۔ تاکہ کچھ عرصہ منظر عام پر رہیں اور پھر یا تو استثنیٰ حاصل کر لیں یا معاف کروا لیں یا ساز باز کر کے دوسرے ممالک میں روپوش ہو جائیں۔ (رانا ذوالفقار علی لاہور)