سینما کی بحالی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی۱قومی سطح کے ادارے اور صنعتیں نہ ہی راتوں رات قائم ہوتے ہیں نہ برباد، پاکستانی فلمی صنعت کو موجودہ بدترین بحران تک پہنچانے کا ذمہ دار نہ کوئی ایک فرد ہے نہ گروہ ، حکومت سے فلم بین تک سب اسکے ذمہ دار ہیں ، فلمی صنعت کے ختم ہونے سے گوناںگوں مسائل پیدا ہورہے ہیں اس لئے اس کی بحالی اور تعمیرِ نوہ ہر لحاظ سے ضروری اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مگر یہ کام موجودہ بدترین حالات میں کوئی تنِ تنہا نہیں کر سکتا، خاص طور پر حکومت اور متعلقہ ادارے جب تک اس صنعت کی بحالی کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ملک بھرمیں سینماگھروں کی شدید قلت ہے ۔ کل150سینماگھروں میں سے 80%غیر معیاری ہیں جن میں جدید سہولیات کے فقدان کی وجہ سے کوئی معیاری فلم نہیں لگائی جا سکتی۔باصلاحیت گلوکاروں اور اداکاروں کے معاملے میں تو یہ ملک خودکفیل ہے مگرتخلیق کاروں اور دیگر فنی امور سے وابستہ لوگوںکی تربیت کی اشد ضرورت ہے، چاہے ملک میںان کی تربیت کے لئے ادارے قائم کئے جائیں یابیرونِ ملک بھیج کر اسکا انتظام کیا جائے۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس شعبے میں آگے لانے کی سخت ضرورت ہے جو نئے آئیڈیاز کے ساتھ اس مردہ ہاتھی میں جان ڈال سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ کے لئے ٹیکس میں چھوٹ سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ مگر ساتھ ہی نجی شعبے کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے آگے آنا چاہیے یہ بحالی حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک اور تعاون سے ہی ممکن ہے اور کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب فلم بین بھی اس کاوش کا عملی حصہ بنتے ہوئے معیاری فلم دیکھنے سینماءکا رخ کریں۔(وقاص احمد ۔ لاہور)