انتہا پسندی ،کرپشن اور سرمایہ کاری

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

پاکستان کی بنیادبھی اسلام ہے اوربقاءبھی اسلام ہے ۔دین سے دوری نے ہمیں دربدرکردیاہے اورہمیں کسی کومنہ د یکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔مساجدمیں گھس کرنمازجمعہ کے دوران اوربس میں سوارطالبات پرخود کش حملے کسی مذہب کی روسے جائزاوردرست نہیں ہیں۔مٹھی بھرشدت پسنداٹھارہ کروڑپاکستانیوں کویرغمال یااپناہم خیال نہیں بناسکتے۔پاکستان کے لوگ انتہاپسندی سے بیزاراورخوش کش حملوں کے ماسٹرمائنڈعناصر سے شدیدنفرت کرتے ہیں۔یہ گمراہ اوربھٹکے ہوئے چندعاقبت نااندیش کسی قیمت پراپنے مذموم مقاصدمیں کامیاب نہیں ہوں گے۔انتہاپسندی اسلام کی ضداوراسلام سے بغاوت ہے۔مذہبی طبقات معاشرے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اعتدال پسندی کے فروغ کیلئے اپنااپنا کرداراداکریں۔نام نہادروشن خیالی نے ملک وقوم کوانگاروں اوراندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ دینی قوتوں کے درمیان دوریاں اورتلخیاں اسلام اور پاکستان کے مفادمیں نہیں، اسلام اورپاکستان کیخلاف منفی پروپیگنڈے کوناکام بنانے کیلئے انہیں ایک پلیٹ فارم پرمتحدہوناہوگا۔پاکستان کوایک گرینڈاتحاداورقومی ایجنڈے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک سے کرپشن کیخلاف آپریشن کلین اپ کاآغازاوپرسے نیچے کی طرف کیا جائے ،وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے اثاثے ڈکلیئر اوربیرون ملک اپنے صاحبزادوں کاکاروباراورسرمایہ پاکستان میں منتقل کریں ورنہ بیرونی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں آنے اورسرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیناچھوڑدیں۔اگرارباب اقتدارواختیار کرپشن چھوڑدیں توکوئی عام آدمی کرپشن کاتصور بھی نہیں کرے گا۔اس وقت پاکستان کودرپیش مسائل میں سے سب زیادہ ہاٹ ایشو کرپشن ہے ۔( صائمہ شہزادی لاہور sshahzadikhan1@gmail.com )