بابُو بینڈ اور مِلّی بینڈ

مکرمی! ماضی بعید میں لاہور میں سوہنی بینڈ بہت مشہور ہوا کرتا تھا بلکہ اُس کی کارکردگی کا چرچا پورے برصغیر میں تھا۔ اسکا رِنگ لیڈر ماسٹر سوہنی جسکے نام سے یہ بینڈ مشہور تھا۔ سُوٹ میں ملبوس سر پر طُرّے دار پگڑی سجائے کلارنیٹ پر دلکش دُھنیں چھیڑتا ہوا جب بینڈ کو Lead کرتا تھا تو لوگ جھُوم جھُوم جاتے تھے۔ بارات جہاں جہاں سے گزرتی راہگیر اوردکاندار بھی اُٹھ اُٹھ کر ویلیں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ماضی قریب میں بھی لاہور میں بابو بینڈ مشہور ہوا کرتا تھا۔ اس بینڈ کے ممبر وردی پہنتے تھے جو بعد میں عام بینڈ باجوں والوں نے پہننا شروع کر دی۔ پھر فوجی بینڈ اور پولیس بینڈ پسند کئے جانے لگے اور براس بینڈ جس میں پیتل کے بنے ہوئے بڑے بڑے باجے ہوا کرتے تھے زوال پذیر ہو گیا۔
بینڈ باجوں کا خیال ہمارے ذہن میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جناب ڈیوڈ ملی بینڈ کے نامِ نامی کی بدولت ذہن میں آیا۔ جو اکثر بھارت اور پاکستان کے دوروں پر آئے رہتے ہیں۔ دھوپ چھائوں کے کھیل کا دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ کبھی وہ کِسی بینڈ سے بولتے ہیں اور کبھی کسی اور بینڈ سے۔ کبھی تو اُن کا بیان سُن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور کبھی داغ داغ۔ کبھی اُن کا بیان ماسٹر سوہنی کے بینڈ کی طرح دلکش اور دلنواز دھنیں چھیڑتا ہوا ہم پاکستانیوں کے دلوں کو سرشار کر دیتا ہے اور کبھی ’’شادی مرگ‘‘ کی سی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور آ جا کر بات \\\"Do more\\\" پر ہی ختم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چند ماہ پیشتر جب آپ پاک و ہند کے ٹور پر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ’’بھارت ٹھوس شواہد دے۔ ممبئی ملزموں کو پاکستان میں ہی سزا ملنی چاہئے۔ حملوں میں پاکستانی حکومت ملوث نہیں برطانیہ اُس کے موقف سے مطمئن ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے عالمی برادری مدد کرے۔ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک حل کریں‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ 15 جنوری)
’’بُش کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نظریہ غلط تھا۔ مسئلہ کشمیر لازمی طور پر حل کیا جائے۔ لشکرِ طیبہ اور عسکریت پسند ختم ہو جائینگے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ 16 جنوری) نیز
’’پاکستان نے سنجیدہ اقدامات نہ کئے تو اسکے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دہشت گردوں کا پاکستان کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنا (بغیر ثبوت کے ہی) اُسکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ پاکستانی قوم کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ حالات سنجیدہ ہیں۔ بھارت کو گہرا زخم لگا ہے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 17 جنوری)
موصوف پاکستان کے دورے پر تشریف لائے مگر پالیسی وہی ہے۔
مگر حضور مسئلہ کشمیر حل کیسے ہو یہ آپ نے نہیں فرمایا۔ جوکہ گذشتہ باسٹھ سال میں حل نہیں ہو سکا۔ اور پھر ’’اے بادِ صبا ایں آوردۂ تست‘‘۔ اگر تقسیم ہند کے وقت برطانوی سرکاری ہندوئوں سے گٹھ جوڑ کر کے گرداس پور کی تحصیل پٹھان کوٹ بھارت کے حوالے نہ کرتی تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ اور اگر اب بھی برطانیہ اور امریکہ بھارت پر دبائو ڈال کر اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کروا کر کشمیریوں کو ’’حق خودارادی‘‘ دلوا دیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے بصورت دیگر اس کا کوئی حل ممکن نہیں جو متعلقہ فریقوں کو مطمئن کر سکے۔ مگر بھارت ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی رٹ سے باز نہیں آتا۔ یہ جو سابقہ نو‘ دس سالوں سے (Confidence building measures) کے نام پر مذاکرات ہوتے رہے یا ہو رہے ہیں۔ اُن کا کیا نتیجہ نکلا؟ کسی مسئلے کے حل کے لئے اتنے لمبے مذاکرات تاریخ میں نہیں ملتے۔ کبھی برطانیہ یا امریکہ یا دیگر بااثر یورپی ملک نے اس مسئلے کے حل کے لئے بھارت پر دبائو ڈالا؟ کبھی کسی نے بھارت کی اس ننگی اور کھُلی جارحیت اور بربریت کی مذمت کی کہ اسکے انسانیت سے عاری وحشی فوجیوں نے لاکھوں نہتے بے گناہ کشمیری بچوں‘ عورتوں‘ نوجوانوں‘ بوڑھوں اور مردوں کا قتل عام کیا اور ہزاروں کو لاپتہ کیا۔ اسکے وحشی درندوں نے کتنی معصوم اور پاکباز عورتوں اور بچیوں کی عصمت دری کی؟ نیز بھارت نے کِن کِن علاقوں میں دہشت گردی کروائی اور پاکستان مخالف قوتوں کی کہاں کہاں حوصلہ افزائی کی۔
جب تک دنیا کی بڑی طاقتیں دُہرے معیار اور اپنے مفادات کو ترک نہیں کرتیں اور جب تک عملی طور پر مہذب ہونے اور جمہوریت پسندی کا عملی مظاہرہ نہیں کرتیں اور جب تک ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی پر گامزن نہیں ہوتیں تب تک دنیا میں امن و آشتی کے قیام اور انسانی بقا پر سوالیہ نشان ہی رہے گا!
تمہیں نے درد دیا تمہی دوا دینا (خالد سعید اختر 0300-4373899)