پاکستان بنانے والی قوم اور سول ملازمین

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پاکستان بنانے والی قوم اور سول ملازمین

مکرمی! قیام پاکستان سے پہلے سے لے کر 1957 تک گگو کا سکول مڈل تک رہا۔ ہم 1948 سے 1957 تک اسی سکول میں پڑھتے رہے۔ ہمارا گائوں سکول سے تقریباََ 2 کلومیٹر دور تھا۔ گرمیوں میں کبھی کبھی صبح ہی چھٹی ہو جاتی تو ہم گگو بازار جس کی دکانیں کچی اینٹوں کی بنی ہوتی تھیں کے سائے میں بیٹھ کر ہوم ورک مکمل کرتے۔ اگر ہم ہوم ورک مکمل کئے بغیر گھر چلے جاتے تو ہمیں کھیتوں پر بھیج دیا جاتا تھا تو ہمارا ہوم ورک رہ جاتا تھا بجلی ہوتی نہیں تھی کہ رات کو بیٹھ کر ہوم ورک کرتے۔ دکان کے سایہ میں بیٹھ کر کام کرنے کے دوران ہم ہمیشہ یہ دیکھتے کہ کوئی دیہاتی آکر دوکاندار کو یہ کہتا کہ ’’جانی‘‘ بھائی یہ میری چادر یا بوری لے لیں اس میں فلاں فلاں اتنا اتنا سودا باندھ رکھنا میں پاکپتن جا رہا ہوں۔ شام کو واپسی پر سودا لیتا جائوں گا۔ وہ سودے کے پیسے دے کر چلا جاتا۔ گاہگ کی غیر موجودگی میں دوکان کا مینجر ’’جانی‘‘ ماتحتوں کو تلقین کرتا کہ سودا صاف ستھرا کر کے تولنا اور جھکتا تولنا۔ بندہ نہیں دیکھ رہا اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس وقت معاشرہ میں جتنی بھی کرپشن ہے سب سرکاری ملازمین کی ہی پیدا کردہ ہے، سرکاری ملازمین کے بغیر کوئی بھی کرپشن نہیں کر سکتا۔ کرپشن روکنے کے لئے سرکاری ملازمین کی نوکریاں Transfer  یا suspend نہیں بلکہ Dismiss سے مشروط کرنا ہوں گی۔(خان محمد اسلم خان ضلع وہاڑی0324-6622127)