شدت پسندی اور اس کے محرکات

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
شدت پسندی اور اس کے محرکات

مکرمی! ہمارا موجودہ معاشرہ انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے جس عفریت سے دوچار ہے، اس میں ہمارے مقتدر حلقوں نے ایک کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ فی الحقیقت گزشتہ ہزار بارہ سو برسوں میں مذہب کے حوالے سے جو تعبیریں اور توجیہات کی جاتی رہی ہیں، ان میں بھی انتہا پسندی اور شدت پسندی کے وائرس مخفی طور پر موجودتھے۔ جن کو ہر آنے والے دور میں نشو نما ملتی رہی اورآج اس کاہم نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ مسلم دنیا کی یہی شدت پسندی مسلم ممالک اور معاشروں سے نکل کر تمام اقوام عالم میں پھیل گئی ہے، جس سے اسلام کا حقیقی امیج بری طرح مسخ ہو چکا ہے اور آج مسلمان ہونا عالمی منظر نامہ میں ایک نفرت انگیز علامت بن گیا ہے۔ فی الحقیقت یہ سب ہماری مسلسل کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ مانا کہ اہل مغرب کی بعض غلط پالیسیاں بھی اس میں کارفرما ہیں، لیکن ہمیں بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل مغرب کی غیر منصفانہ،غلط پالیسیوں کی اثر پذیری کو زائل کرنے کے لیے ان کے متوازی پالیسیاں اپنا لینی چاہئیں۔(سید نوشاد کاظمی، لاہور)