’’طالبان سے مذاکرات ‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! اگر حکمرانوں نے طالبان سے مذاکرات بھی کرنا تھے تو 9/11 سے لے کر اب تک ہم امریکہ کے سٹریٹجک پارٹنر‘ فرنٹ لائن سٹیٹ غیر ناٹو اتحادی بن کر انکے خلاف ’’آپریشن‘‘ کے نام پر جو کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ان کا حاصل کیا تھا ‘ صرف یہی کہ ہم پورے ملک کو عوام کیلئے جہنم بنا دیا۔ اب حکومت کی مذاکرات کی خواہش کی غیر سنجیدگی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اسکے لئے حکومتی ٹیم میں جن افراد کا نام منظر عام پر آیا ہے وہ مذاکرات کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر ان مذاکرات کو بہانہ بنا کر حکومت کوئی فوجی یا غیر فوجی اقدام کیا تو پھر سمجھ لیجئے کہ جس ملک جس جماعت 47ء میں بنایا تھا وہی جماعت 2014ء  میں اسکے خاتمہ بالخیر کی ذمہ داری ہو گی اور پی ‘ پی ‘ پی اور پی‘ ایم ‘ ایل ‘ این آج بھی ایک دوسرے کی اتحادی ہیں۔ پی۔ پی۔ پی ملک کے مشرقی ہاتھ سے اپنی جان چھڑائی۔ تو اب پی۔ ایم ۔ ایل ۔ ایک بقیہ پاکستان باب بند کر کے ہی۔ پی پی سے اتحادی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت فراہم کرے گی۔ مذاکرات اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جو مذاکراتی پالیسی ہم نے بھارت اور امریکہ کیلئے طے کر رکھی ہے۔ وہی پالیسی طالبان سے  کے لئے بھی اپنائی جائے بھارت اور امریکہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے ان کو خوش رکھنا ہی ہماری خارجہ پالیسی ہے۔ محمد ارشد   بی۔ علی پور گارڈن بی/ آر لاہور کینٹ )