گورنر پنجاب سے غریب کی استدعا

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! میں غریب گھرانے کا چشم و چراغ ہوں اور میرے بوڑھے والدین سے محنت مزدوری کر کے مجھ کو بی۔ اے تک تعلیم دلوائی اور پھر میں روزگار کی تلاش کرتے کرتے اور ایج ہو گیا۔ وقت گزرنے کے گزرتے اخبارخبریں میں ضلع سیالکوٹ کے کالجز میں درجہ چہارم کی مختلف پوسٹوں کا اشتہار شائع ہوا۔ جس میں عمر کی حد 40 سال مقرر تھی۔ میں نے بھی مالی کی پوسٹ کیلئے اپلائی کر دیا۔  اور مقررہ تاریخ کو انٹرویو کے لیء بھی گیا تو کمرہ انٹرویو میں صرف اور صرف کاغذی کارروائی تھی کمرہ انٹریو میں صرف ایک کلرک موجود تھا۔ اس نے ایک کاغذ پر حاضری لگائی اور فارغ کر دیا جو کہ سراسر حق تلفی اور ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے میں نے صوبائی محتسب اعلیٰ صاحب کودرخواست دی جب بھی مجھ کو نوٹس موصول ہوتا تو میں وہاں پیش ہو جاتا تھا لیکن جب بحث کی تاریخ مقرر ہوئی تو مجھ کو کوئی نوٹس موصول نہ ہوا جس کی وجہ سے فیصلہ میرے خلاف ہو گیا۔ جب فیصلہ کی نقل مجھ کو موصول ہوئی کہ اس میں یہ درج ہے کہ بحث میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے کیس آپ کیخلاف کیا جاتا ہے لیکن میں نے مقررہ تاریخ کے اندر اندر گورنر پنجاب سے اپیل کر دی۔ لہذا میری گورنر پنجاب سے اور وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ بھرتی بوگس ہوئی ہے ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کریں اور انصاف پر مبنی فیصلہ صادر فرمائیں۔ (ذوالفقار احمد ولد نور محمد ستراہ) 0303-6860519-0311-1794324 )