بک شیلفHOME COMING OF THE HEART(1933-1992)

ایڈیٹر  |  مراسلات

روڈ ٹو مکہ بنیادی طور پر محمد اسد کی روحانی سرگذشت ہے جو گذشتہ نصف صدی سے ذوق و شوق سے پڑھی جا رہی ہے۔ روڈ ٹو مکہ میں 1932ءتک کی روداد بیان کی گئی ہے جب محمد اسد سعودی عرب کو خیرباد کہہ کر ہندوستان کا رخ کرتے ہیں۔ روڈ ٹو مکہ کی اثر انگیزی اور دلچسپی کے باعث تقاضا تھا کہ محمد اسد 1932ءکے بعد رونما ہونے والے واقعات زندگی کو بھی اسی پیرائے میں قلمبند کریں۔ زیر تبصرہ کتاب قارئین کی خواہش کی تکمیل ہے۔ محمد اسد 1992ءمیں اپنی وفات سے تین چار سال پہلے تک یہ کتاب لکھنے میں مصروف رہے۔ اس کے بعد اپنی گرتی ہوئی صحت اور مختلف بیماریوں کے باعث وہ خود اسے مکمل نہ کر سکے اور ملازمت سے استعفیٰ دینے اور پولا سے شادی تک کے واقعات لکھ پائے تھے کہ ہمت جواب دے گئی چنانچہ بعد میں ان کے ساتھ چالیس سال تک رفیقہ حیات رہنے والی پولا حمیدہ اسد نے بقیہ حالات اور واقعات قلم بند کئے۔ کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ محمد اسد کا تحریر کردہ اور 1932ءسے 1952ءتک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ حصہ دوم پولا حمیدہ اسد نے قلمبند کیا ہے جس میں 1932ءسے 1992ءتک چالیس سال کے نجی حالات کا تذکرہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب روڈ ٹو مکہ کا پارٹ ٹو ہے تاہم اس کا موازنہ اس سے نہیں کیا جا سکتا تاہم حصہ اول میں محمد اسد کے پرزور اور موثر انداز بیان کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ پولا حمیدہ اسد کے تحریر کردہ حصے میں یہ جھلکیاں کچھ مزید ماند پڑ گئی ہیں لیکن معلومات کے اعتبار سے یہ حصہ بھی خاصا دلچسپ اور مفید ہے۔ کتاب کی اہمیت اور اثر انگیزی سے انکار نہیں کیا جا سکتا بلاشبہ اس کتاب کے مطالعے سے تاریخ پاکستان کے ابتدائی دور کے کئی گوشے سامنے آتے ہیں جو خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ کتاب کے مترجم اور مرتب محمد اکرام چغتائی ہیں۔ دی ٹروتھ سوسائٹی لاہور نے چھاپی اور A-2-81 گلبرگ III سے نوسو روپے کے عوض دستیاب ہے۔    (تبصرہ: شریف کیانی)