کسی سے کوئی امید وابستہ نہ رکھیں

مکرمی! اپنی پچہتر سالہ زندگی میں کئی واقعات کی رُو سے نوائے وقت کی وساطت سے قارئین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی سے اپنے کسی غرض کی خاطر اُمید نہ رکھیں کہ کوئی آپ کی غرض پوری کر دے گا۔ انسانیت ہی بدل چکی ہے ہمدردیاں اور آسرے لگانا اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔ خاص کر غریب اور متوسط طبقہ اپنی جھولی پھیلائے دفتروں اور بڑے لوگوں کے دروازوں پر ٹھوکریں کھاتا ہے اور بالآخر بے یارومددگار اپنے آنسو اپنی جھولی میں ڈال کر گھر لوٹ آتا ہے۔ آپ کی کوئی فریاد نہیں سنے گا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا یہ سارا سنگدلی کا زمانہ ہے جھوٹے مکار لوگوں کا دور دورہ چل رہا ہے۔ (اختر مرزا 12-A سرداراقبال روڈ لنک ظفر علی روڈ گلبرگ 5 لاہور )