ضبطِ مبادلہ (ایکسچینج کنٹرول)

مکرمی! آپ کے روزنامہ کی وساطت سے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی توجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی طرف مبذول کرواناچاہتا ہو۔ پاکستان کی کرنسی کی قدر میں بہت کمی ہورہی ہے ڈالر کی مانگ بڑھ گئی ہے آج ڈالر پاکستان کے 107روپے کے برابر ہے۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ہماری برآمدات بہت کم ہیں۔ ایسی حالات میں پاکستان کو اوپن اکانومی رکھنا نقصان کا باعث ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری طورپر ایک آرڈیننس جار یکرکے ملک میں ایکسچینج کنٹرول کا نظام نافذ کردیاجائے۔پرائیویٹ کمپنیوں کو بیرونی کرنسی کی خرید و فروخت سے منع کردیاجائے۔ صرف سٹیٹ بنک اور نیشنل بنک کو بیرونی کرنسی کا کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔اب پاکستان میں امیر لوگ اپنی فالتو رقوم یا صنعتکار اپنی منافع کی رقم کو ڈالر یا پاﺅنڈ میں تبدیل کرکے دوبئی یا دیگر ممالک میں بھیج رہے ہیں ۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول /ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری بالکل ناپید ہوچکی ہے پاکستان کی کرنسی پر اعتماد نہیں۔ اکثر لوگ اپنی بچائی ہوئی رقومات ڈالر/ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ نواز شریف نے جب یہ اوپن اکانومی کا نظام شرو ع کیا تھا اس وقت عبدالستار ایدھی نے کہا تھا کہ نظام پاکستان کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ ایدھی کوئی ماہر اقتصادیات نہیں ملک کے دیگر ماہرین نے بھی مخالفت کی تھی۔ آج ملک کے مالی حالات درست کرنے کیلئے ضبط مبادلہ کا نفاذ کیا جائے۔ ملک میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنایا جائے حکومت کے وسائل میں اضافہ درکار ہے۔(حمید جاوید فیصل آباد)