تیری شان جلا جلالہ

پانی سے سستا ہے لہو
انسانیت بے آبرو
بد رنگ عالم رنگ و بو
تیری شان جل جلالہ
یہ جو قائدین قوم ہیں
قبضہ گروپ الیوم ہیں
جنگ آزمودہ جنگ جو
تیری شان جلا جلالہ
جو وزیر ہیں جو مشیر ہیں
قارون سے زیادہ امیر ہیں
اک دوسرے کے عیب جو
تیری شان جل جلالہ
خطرے میں پھر اسلام ہے
فتویٰ فروشی عام ہے
مسند نشین علمائے سو
تیری شان جل جلالہ
پکڑا ہے جھنڈا جہاد کا
دراصل کام فساد کا
اشکال مومناں ہو بہو
تیری شان جل جلالہ
یہ جو کاروباری لوگ ہیں
ناسور آفت روگ ہیں
حاجی نمازی باوضو
تیری شان جل جلالہ
لاریب ایٹم بم بھی ہے
اور بازو¶ں میں دم بھی ہے
پھر کیوں گدائی کو بہ کو
تیری شان جل جلالہ
کرب و بلا میں ہستی ہے
ہر دم ضمیر کو ڈستی ہے
تیری آئیہ لاتقنطوا
تیری شان جل جلالہ
(اثر چوہان۔ لندن)