علم، تعلیمی ادارے اور اُنکی توڑ پھوڑ

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی ! رب کا حکم ”علم حاصل کرو کائنات پر غور کرو۔“ علم کی ترویج کےلئے تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ طالب علموں کی سہولت کےلئے عمارات بنائی جاتی ہیں۔ رب کے عطا کئے گئے علم کے ذریعے ایجادات وجود میں آئیں۔ ٹرانسپورٹ کےلئے سائیکل، موٹر سائیکل، کار ویگن، بس، جہاز، موبائل، روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی دیگر اشیائ۔ مشاہدے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ حصول علم کے مراکز، تعلیمی اداروں کو آتش گیر مواد کے ذریعے توڑ پھوڑ کرتے اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ وہ خود تو علم کے ذریعے ایجاد ہونے والی اشیاءسائیکل، موٹر سائیکل، کار، ویگن، بس، موبائل فون وغیرہ کا استعمال بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف حصول علم کے مرکز تعلیمی ادارہ کی تباہی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسے عمل سے وہ خود اپنی ذات کی توہین کے ساتھ رب کے حکم کی نفی اور انکاری کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ بالآخر رب کے حکم کی تعمیل جاری و ساری رہے گی۔
(رانا احتشام ربانی ۔ پوسٹ بکس نمبر 01، جی پی او اوکاڑہ فون 0300-9424927)