پنجاب کے پڑھے لکھے نوجوانوں کا المیہ!

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پنجاب کے پڑھے لکھے نوجوانوں کا المیہ!

مکرمی!ہمارے والدین نے بڑے پاپڑ بیل کر ہمیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو ہمیں نوکریاں دی جا رہی ہیںاور نہ عمر میں رعائت۔ملازمت کے لیے عمر کی حد صرف35سال ہے جب کے لڑکیوں کے لیے یہی حد38سال ہے۔خواتین مردوں کے سکولز میں ایجوکیٹربننے کا حق رکھتی ہیں جب کہ مرد وں کو اس حق سے محروم رکھا گیا ہے اور خواتین مردوں کی سیٹوں پر قابض ہو جاتی ہیں۔ ہماری وزیراعظم،خادم پنجاب،چیف جسٹس صاحبان سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ روزگار کے مواقع مردوں اور خواتین کو مساویانہ بنیاد پر دیے جائیں ا ور مردوں کو عمر کی حد میں خصوصی رعائت دی جائے تا کہ گھرمیں نوکری کی آس میں دعائیں کرتی ہوئی بوڑھی ماں کو اطمینان مل سکے۔نوجوانوں کے درمیان پھیلی اس بے چینی کو ختم کیا جائے تاکہ گھر کے واحد کفیل اپنے گھر کی کفالت کر سکیں۔ (محمد شاہد سلیم نارووال(03334032285)